اتراکھنڈ کے ضلع اتّرکاشی کے کلیچ گاؤں میں ایک ایسی شادی ہوئی جس نے نہ صرف مقامی لوگوں کو حیران کیا بلکہ خوش بھی کر دیا۔ عام طور پر شادیوں میں دلہا بارات لے کر دلہن کے گھر جاتا ہے، مگر اس بار منظر بالکل الٹا تھا — دلہن خود اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بارات لے کر دلہے کے گھر پہنچی۔
پرانی روایت کا دوبارہ احیاء
یہ انوکھی شادی اتراکھنڈ کے آرکوٹ علاقے کے کلیچ گاؤں میں سابق پردھان کلّیان سنگھ چوہان کے بیٹے منوج اور گاؤں جاکٹا کے جنک سنگھ کی بیٹی کویتا کے درمیان ہوئی۔ شادی کی خاص بات یہ تھی کہ کویتا خود ڈھول نگاڑوں اور روایتی گیتوں کے ساتھ دلہے کے گھر بارات لے کر پہنچی۔ جیسے ہی بارات گاؤں میں داخل ہوئی، پورا ماحول خوشی اور رنگوں سے بھر گیا۔
”الٹی بارات“ کا جوش و احترام سے استقبال
دلہے کے خاندان نے اس ”الٹی بارات“ کا پورے احترام اور جوش کے ساتھ استقبال کیا۔ گاؤں کے لوگوں نے اسے ایک تہوار کی طرح منایا۔ آس پاس کے دیہاتوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اس تاریخی شادی کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔
بغیر جہیز کے شادی — سماجی برابری کی مثال
اس شادی کی ایک اور خاص بات یہ رہی کہ اس میں جہیز کا کوئی لین دین نہیں ہوا۔ دونوں خاندانوں نے برابری اور سادگی کا پیغام دیا۔ دلہے کے والد کلّیان سنگھ، جو علاقے میں ایک ترقی پسند کسان اور سماجی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں نے کہا کہ ”اگر ہمیں اپنی ثقافت بچانی ہے تو ہمیں اپنے پرانے رواجوں کو دوبارہ اپنانا ہوگا“۔
”جوجوڑا“ روایت کا مطلب
مقامی زبان میں اس طرح کی شادی کو ”جوجوڑا“ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے — ”وہ جوڑا جسے بھگوان خود بناتے ہیں“۔
بارات لے کر جانے والے خاندان کو “جوجوڑیے” کہا جاتا ہے۔ اس روایت کی ابتدا اس لیے کی گئی تھی کہ بیٹی کے والد پر مالی بوجھ نہ پڑے۔ وقت کے ساتھ یہ رسم تقریباً ختم ہو گئی تھی، لیکن اب نئی نسل اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس منفرد شادی نے نہ صرف پرانی ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا بلکہ جہیز کے خلاف اور صنفی برابری کے حق میں ایک مثبت پیغام بھی دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


