اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ریاست کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے یکم جولائی 2026 سے مدرسہ بورڈ کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب 12 بجے کے بعد مدرسہ بورڈ کا وجود ختم ہو گیا، جبکہ اس کی جگہ اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی (USAME) نے باضابطہ طور پر کام سنبھال لیا ہے۔ حکومت کے مطابق، اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے ایک مشترکہ تعلیمی نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا اطلاق صرف مدارس تک محدود نہیں بلکہ مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور پارسی برادریوں کے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں پر بھی ہوگا۔
مدارس میں جدید تعلیم لازمی
نئی گائیڈ لائن کے مطابق ریاست کے 452 رجسٹرڈ مدارس میں اب صرف روایتی دینی تعلیم پر انحصار نہیں ہوگا، بلکہ اتراکھنڈ اسکول ایجوکیشن بورڈ کا مکمل نصاب پڑھانا لازمی ہوگا۔ طلبہ کو ریاضی، سائنس، انگریزی، سماجی علوم اور کمپیوٹر تعلیم جیسے مضامین بھی پڑھائے جائیں گے تاکہ وہ عصری تعلیمی نظام سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
دینی تعلیم جاری رہے گی
حکومت نے واضح کیا ہے کہ مدارس میں قرآن کریم، دینیات اور دیگر مذہبی مضامین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ تاہم، دینی تعلیم باقاعدہ اسکول کے اوقات ختم ہونے کے بعد اضافی وقت میں دی جائے گی، جبکہ اسکول کے اوقات میں ریاستی بورڈ کا نصاب پڑھانا لازمی ہوگا۔
سرکاری سرٹیفکیٹ سے تعلیم اور ملازمت کے مواقع
سابق مدرسہ بورڈ کے چیئرمین شمون قاسمی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مدرسہ بورڈ کے جاری کردہ سرٹیفکیٹس کو جامعات اور سرکاری ملازمتوں میں مساوی حیثیت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ نئے نظام کے تحت امتحانات کے بعد طلبہ کو براہِ راست اتراکھنڈ اسٹیٹ اسکول ایجوکیشن بورڈ کا سرکاری اور تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ ملے گا، جس کی بنیاد پر وہ اعلیٰ تعلیم، NEET، JEE، سول سروسز (IAS، IPS) اور دیگر سرکاری ملازمتوں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ درخواست دے سکیں گے۔
نئی گائیڈ لائن کی اہم شرائط
اقلیتی بہبود محکمہ کے خصوصی سیکریٹری ڈاکٹر پراگ مدھوکر دھکاتے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ہر اقلیتی تعلیمی ادارے کو قانون کی دفعہ 14 کے تحت مقرر کردہ 11 لازمی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔کسی بھی طالب علم یا استاد کو کسی مذہبی سرگرمی یا دعا میں زبردستی شریک نہیں کیا جا سکے گا۔تمام مدارس کو پہلے اتراکھنڈ اسکول ایجوکیشن بورڈ سے الحاق حاصل کرنا ہوگا، اس کے بعد اقلیتی تعلیمی اتھارٹی انہیں منظوری دے گی۔منظوری صرف تین تعلیمی برسوں کے لیے مؤثر ہوگی، جس کے بعد تجدید کرانا لازمی ہوگی۔اتھارٹی کو کسی بھی وقت اچانک معائنہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا اور اگر کوئی ادارہ مقررہ قواعد، جدید نصاب یا سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کی منظوری فوری طور پر منسوخ کی جا سکتی ہے۔
دیگر اقلیتی برادریوں کو بھی یکساں حقوق
اگست 2025 میں ریاستی اسمبلی سے منظور اور اکتوبر 2025 میں گورنر کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت اب اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ صرف مسلم برادری تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ مسلم، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی برادریوں کے تمام تعلیمی ادارے ایک ہی انتظامی نظام کے تحت کام کریں گے۔
نئی اتھارٹی کی قیادت
وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ایک خصوصی تقریب میں ابتدائی مرحلے میں 9 اقلیتی تعلیمی اداروں (جن میں 7 مدارس، ایک سکھ اور ایک جین اسکول شامل ہیں) کو نئی منظوری کے سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے۔نئی اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر سرجیت سنگھ گاندھی کو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 12 رکنی کمیٹی اس پورے نظام کی نگرانی کرے گی۔ حکومت کے مطابق، اس اصلاحات کا مقصد تمام اقلیتی طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنا اور انہیں جدید تعلیم کے ذریعے ریاست اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


