Bharat Express DD Free Dish

Uttarakhand government seals 136 madrasas: اتراکھنڈ حکومت نے 136 مدارس کو غیرقانونی بتاتے ہوئے سیل کیا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’غیر قانونی مدارس‘‘ کے خلاف جاری رہے گی کارروائی

ریاست میں مدرسوں کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت نے ریاست بھر میں مبینہ طور پر 136 غیر قانونی مدارس کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے سیل کردیا ہے کہ وہ محکمہ تعلیم یا مدرسہ بورڈ میں رجسٹر نہیں تھے۔

ریاست میں مدرسوں کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت نے ریاست بھر میں مبینہ طور پر 136 غیر قانونی مدارس کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے سیل کردیا ہے کہ وہ محکمہ تعلیم یا مدرسہ بورڈ میں رجسٹر نہیں تھے۔ دی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ریاست میں تقریباً 450 رجسٹرڈ مدارس ہیں، جب کہ مزید 500 محکمۂ تعلیم یا مدرسہ بورڈ سے الحاق کے بغیر موجود ہیں۔ تاہم ایسے مدرسےسوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت چلائے جارہے ہیں۔

حکومت نے جاری کیا ہے بیان

حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’غیر قانونی مدارس، غیر مجاز مزارات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ اتر پردیش کی سرحد سے متصل قصبوں میں غیر رجسٹرڈ مدرسوں کی اطلاع ملی ہے اور ایسے غیر مجاز ادارے سیکیورٹی کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔‘‘ سیل کیے گئے مدارس میں ادھم سنگھ نگر کے 64، دہرادون کے 44، ہریدوار کے 26 اور پوڑی گڑھوال کے دو مدارس شامل ہیں۔

پیر کو وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے حکام کو ان اداروں کی فنڈنگ ​​کے ذرائع کی چھان بین کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ٹائمز آف انڈیا نے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ’’ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مدرسہ آپریٹرز، اندراج شدہ طلباء کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فنڈنگ ​​کے ذرائع کی جانچ کریں۔‘‘۔

جمعیت علمائے ہند کا ردعمل

اس پیش رفت پر جمیعت علمائے ہند کے ریاستی سکریٹری خورشید احمد نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ’’اس طرح بڑے پیمانے پر کوئی مہم چلانے کے لیے حکومت کو ایک حکم پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ مدرسوں کو سیل کرنے کا یہ عمل رمضان کے دوران اس وقت ہو رہا ہے جب بچے یہاں سے دور اپنے اپنے گھر پر ہیں۔ کئی مدرسے سال کے آخر میں ہونے والے امتحان کے بعد بند تھے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا وہ بچے یہاں سے منتقلی کے بعد دوسرے اسکولوں اور نصاب کے ساتھ ہم آہنگ ہو پائیں گے؟‘‘

دی اسکرول کی خبر کے مطابق ریاستی حکومت نے سرکاری اراضی اور عوامی مقامات سے تجاوزات ہٹانے کے بہانے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ سال 8 فروری کو انتظامیہ نے نینی تال ضلع کے ہلدوانی شہر میں بنبھول پورہ میں ایک مسجد اور مدرسہ کو منہدم کر دیا تھا۔ حالاں کہ یہ معاملہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ اس کے بعد بھڑک اٹھنے والے تشدد میں چھ افراد مارے گئے تھے اور پولیس نے اس کے لیے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے رہائشی علاقوں کو بند کر دیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read