بھارت میں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت ٹیکنالوجی نے خواتین اور بچوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو معاشی، سماجی، اور تعلیمی مواقع تک رسائی کو بڑھا رہا ہے۔ 2015 میں شروع ہونے والے اس پروگرام نے ڈیجیٹل خواندگی، مالیاتی شمولیت، اور صنفی مساوات کو فروغ دیا، جس سے خواتین کی معاشی خودمختاری اور بچوں کی تعلیمی ترقی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یونیسیف کے مطابق، بھارت میں انٹرنیٹ تک رسائی 2015 کے 25 کروڑ سے بڑھ کر 2025 تک 97 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے، جس میں دیہی علاقوں کی خواتین نے نمایاں طور پر فائدہ اٹھایا۔ جے اے ایم ٹرنٹی (جن دھن، آدھار، موبائل) نے 55 کروڑ سے زائد جن دھن اکاؤنٹس کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو تقویت دی، جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین کے ہیں۔ یو پی آئی جیسے پلیٹ فارمز نے دیہی خواتین کاروباریوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے اپنے کاروبار کو بڑھانے میں مدد دی، جبکہ ای-نیشنل ایگریکلچر مارکیٹ (e-NAM) نے خواتین کسانوں کو اپنی پیداوار براہ راست مارکیٹ تک پہنچانے کے قابل بنایا۔
اس کے علاوہ، ڈیجی لاکر نے سرکاری دستاویزات تک آسان رسائی فراہم کی، جس سے خواتین کے لیے سرکاری اسکیموں جیسے کہ پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا سے فائدہ اٹھانا آسان ہوا۔بچوں کے لیے، ڈیجیٹل انڈیا نے تعلیمی مواقع کو وسعت دی، خاص طور پر کووڈ-19 کے دوران جب آن لائن پلیٹ فارمز جیسے کہ دیکشا نے 20 کروڑ سے زائد طلبہ کو تعلیمی مواد فراہم کیا۔ پردھان منتری ای-ودیا پروگرام نے دیہی علاقوں میں 33 ملین سے زیادہ بچوں تک تعلیمی وسائل پہنچائے، جن میں سے بہت سے لڑکیاں تھیں، جو روایتی طور پر تعلیمی مواقع سے محروم رہتی ہیں۔ ڈیجیٹل خواندگی کے پروگراموں، جیسے کہ نیشنل ڈیجیٹل لٹریسی مشن، نے خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی ڈیجیٹل ہنر سکھائے، جس سے وہ آن لائن کاروبار، ای-گورننس خدمات، اور ریموٹ ورک کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ تاہم، چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جیسے کہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی محدود رسائی، ڈیجیٹل آلات کی کمی، اور صنفی امتیاز کی وجہ سے آن لائن ہراسانی۔ ناقدین، جیسے کہ راہل گاندھی، نے نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل ڈیوائڈ کی وجہ سے پسماندہ طبقات، خاص طور پر دیہی خواتین اور بچوں کو مکمل فائدہ نہیں مل رہا۔ اس کے باوجود، ڈیجیٹل انڈیا نے خواتین کے لیے خود روزگار کے مواقع کو بڑھایا، جیسے کہ آن لائن مارکیٹ پلیسز اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز، جس سے لاکھوں خواتین اپنے گھروں سے کاروبار چلا رہی ہیں۔
مستقبل میں، ڈیجیٹل انڈیا کا ہدف مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کے لیے مزید جامع مواقع پیدا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، AI پر مبنی ہیلتھ ایپس خواتین کو ماں اور بچے کی صحت سے متعلق معلومات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے کہ اومنگ (UMANG) نے 2,000 سے زائد سرکاری خدمات کو ایک ایپ پر متحد کیا، جو خواتین کے لیے سرکاری اسکیموں تک رسائی کو آسان بناتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹس، جیسے کہ سمرتی ایرانی کی طرف سے، اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ ڈیجیٹل انڈیا نے خواتین کو نہ صرف معاشی طور پر مضبوط کیا بلکہ انہیں سماجی اور سیاسی طور پر بھی بااختیار بنایا۔ تاہم، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور صنفی حساسیت پر مبنی تربیت جیسے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل ڈیوائڈ جیسے مسائل سے نمٹا جا سکے۔ ڈیجیٹل انڈیا نے خواتین اور بچوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے، لیکن اس کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے مسلسل اصلاحات اور جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


