امریکہ سے غیرقانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کا سلسلہ شروع ہے۔جب امریکہ نے غیر قانونی طور پر مقیم ہندوستانیوں کو واپس ہندوستان ڈی پورٹ کیا تو انسانی رویے پر کئی سوالات اٹھائے گئے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو گھیر لیا۔ اب امریکہ سے غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کو لے جانے والی دو اور پروازیں امرتسر میں اترنے والی ہیں۔ توقع ہے کہ مزید 119 ہندوستانی واپس آئیں گے۔بھارت ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی فضائیہ کا طیارہ ان لوگوں کو بھارت لانے کے لیے دوبارہ آئے گا یا اس سلسلے میں بھارتی حکومت کی جانب سے کوئی انتظام کیا گیا ہے۔
پانچ فروری کو، 104 ہندوستانیوں کو لے کر ایک C-17 طیارہ امرتسر میں اترا، جس میں زیادہ تر ہریانہ، گجرات اور پنجاب سے تھے۔ بھارت ایکسپریس کے مطابق، توقع ہے کہ ایک ہندوستانی طیارہ دوسرے گروپ کے جلاوطن افراد کو لے کر اترے گا، جنہیں پہلی پرواز کے مسافروں کی طرح زنجیروں میں جکڑا نہیں جائے گا۔ ابتدائی پرواز میں ہندوستانیوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا اس پر مرکزی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ڈی پورٹ کئے گئے افراد کے ساتھ مبینہ “غیر انسانی سلوک” نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا اور وزیر خارجہ نے اس معاملے کو امریکی حکومت کے ساتھ اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، دوسری پرواز کے ہفتے کی رات 10 سے 11 بجے کے درمیان امرتسر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کی امید ہے۔
امریکہ سے آنے والی اس دوسری پرواز میں پنجاب سے 67، ہریانہ سے 33، گجرات سے آٹھ، اتر پردیش سے تین، مہاراشٹرا اور راجستھان سے دو دو اور گوا، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر سے ایک ایک مسافر شامل ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر بات چیت ہوئی تھی۔ابھی پچھلے ہفتے ہی، ایک امریکی فوجی طیارہ 204 غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر پنجاب کے امرتسر ہوائی اڈے پر اترا۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان واپس بھیجنے سے پہلے ہر ایک شخص کا معائنہ کیا گیا اور امریکہ سے ہندوستان آنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق پنجاب سے تھا۔ ان تمام کےہاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑیاں بھی لگائی گئیں جس پر بھارت نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



