معروف نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر (فائل فوٹو)۔
کولکاتا میں اردو زبان کے فلمی سفر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مغربی بنگال اردو اکادمی کی جانب سے منعقد ہونے والے چار روزہ فیسٹیول کو آخری لمحات میں اس وقت ملتوی کر دیا گیا جب کچھ شدت پسند مذہبی تنظیموں نے مشہور نغمہ نگار اور اردو شاعر جاوید اختر کی شرکت پر اعتراض کیا۔ اکادمی کی سیکریٹری نزہت زینب نے 30 اگست کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ’’ناگزیر وجوہات‘‘ کا حوالہ دے کر پروگرام کی معطلی کا اعلان کیا، تاہم اندرونی ذرائع نے واضح کیا کہ دباؤ مذہبی تنظیموں جیسے جمعیت علمائے ہند اور وحی فاؤنڈیشن کی جانب سے آیا، جنھوں نے جاوید اختر کے الحادی خیالات پر اعتراض کیا۔
واضح رہے کہ جاوید اختر نہ صرف ملک کے نمایاں اردو شاعروں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ انھوں نے فلمی دنیا میں اردو زبان کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود ان کی ذاتی مذہبی سوچ کو بنیاد بنا کر انھیں ایک لسانی اور ثقافتی پروگرام سے باہر کرنے کی کوشش، دراصل اردو زبان پر ایک خاص مذہب کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش ہے، جو کہ اردو زبان کے ساتھ زیادتی ہے۔ اردو زبان نہ کسی ایک مذہب کی ملکیت ہے، نہ کسی خاص عقیدے سے جُڑی ہوئی۔ یہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان ہے جس نے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کے جذبات، خیالات اور خوابوں کو الفاظ دیے ہیں۔ اردو کو صرف ایک مذہب سے جوڑنا نہ صرف اس کی وسعت کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ہندوستانی ثقافت کی جامعیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔
اردو اکادمی کی گورننگ باڈی کی رکن غزالہ یاسمین نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے اس ادبی و ثقافتی پروگرام کے لیے بڑی محنت کی تھی تاکہ اردو کی خدمات کو سراہا جا سکے۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہم یہ پروگرام زیادہ تنوع اور رسائی کے ساتھ منعقد کر سکیں گے۔‘‘ انھوں نے بجا طور پر یاد دلایا کہ اردو کسی مذہب سے مخصوص نہیں بلکہ اس کا حسن، وسعت اور گہرائی ہر ذی شعور کے لیے ہے۔ اردو کو فرقہ وارانہ سوچ کی بھینٹ چڑھانا، دراصل فن، ثقافت اور آزادی اظہار کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب اردو کی محفل میں بیٹھنے کے لیے مذہب بتانا ہوگا؟ ایسے میں اردو پر نہیں، ان سوچوں پر ماتم کرنا چاہیے جو فن اور زبان کو بھی مذہب کی عینک سے دیکھنا اور ان پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



