نئی دہلی: دہلی میں خراب سڑک کی تعمیر کو لے کر اتوار کو سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ عام آدمی پارٹی (AAP) نے ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما پر ایک نوجوان کو تھپڑ مارنے کا الزام عائد کیا ہے۔ آپ کے مطابق ویڈیو میں پرویش ورما ایک نوجوان کو تھپڑ مارتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ کچھ لوگ سڑک کی تعمیر میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے وزیر سے سوال کر رہے تھے، اسی دوران انہوں نے وہاں موجود ایک نوجوان کو تھپڑ مار دیا۔ اس کے بعد ان کے سکیورٹی گارڈ نے نوجوان کو دھکا دے کر وہاں سے ہٹا دیا۔
سڑک کے معائنے کے دوران پیش آیا واقعہ
رپورٹ کے مطابق دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما ایک زیرِ تعمیر سڑک کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ اسی مقام پر عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ بھی پہنچ گئے اور سڑک کے معیار پر سوال اٹھانے لگے۔ اسی دوران دونوں کے درمیان بحث ہوئی۔ آپ کا الزام ہے کہ اس دوران پرویش ورما نے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کر رہے ایک نوجوان کو تھپڑ مار دیا۔ واقعے کے بعد معاملہ مزید گرم ہو گیا۔ آپ رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے الزام لگایا کہ اب وزیر سے سوال کرنے پر لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں وکاس پوری تھانے میں پرویش ورما کے خلاف شکایت درج کرائیں گے۔
भागो प्रवेश वर्मा… कहाँ तक भागोगे?
आज तिलक नगर विधानसभा में भाजपा के भ्रष्टाचार की सड़क अपनी आँखों के सामने उखड़ते देख मंत्री प्रवेश वर्मा इतना ज्यादा बौखला गए कि वहाँ वीडियो बना रहे एक लड़के को थप्पड़ जड़ दिया।
AAP विधायक @JarnailSinghAAP ने बीजेपी सरकार को बीजेपी सरकार के मंत्री की आँखों के सामने Expose कर दिया तो मंत्री साहब अपना आपा ही खो बैठे। ऐसे थप्पड़बाज मंत्री को सरकार में नहीं, जेल में होना चाहिए।
ये आंदोलन से निकली आम आदमी पार्टी है। न हम इस गुंडागर्दी के आगे झुकेंगे और न दिल्ली की जनता। अब तो तुम लोगों के भागने के ही दिन आ गए हैं। देखते हैं कहाँ तक भागते हो।
— Aam Aadmi Party Delhi (@AAPDelhi) September 27, 2026
اروند کیجریوال نے کی گرفتاری کا مطالبہ
دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی اس ویڈیو کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ پیر کو اس مقام کا دورہ کریں گے۔ وہیں عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے بھی واقعے کی مذمت کی۔ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرویش ورما کا رویہ شرمناک ہے۔ سوربھ بھاردواج کے مطابق، ’’پرویش ورما نے ایک کیمرا مین کو تھپڑ مارا۔ لیڈر نے غصے میں آکر کیمرا مین کو تھپڑ جڑ دیا۔ پولیس کی موجودگی میں کسی شخص پر ہاتھ اٹھا کر آپ نے اپنی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘
متاثرہ نوجوان کا دعویٰ- جان سے مارنے کی دھمکی
تلک نگر میں سڑک کے معائنے کے دوران مبینہ طور پر تھپڑ مارے جانے والے نوجوان صاحب نے بھی اپنا موقف بیان کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ آپ رکن اسمبلی کے لیے سوشل میڈیا کی سرگرمیاں سنبھالتا ہے۔ متاثرہ نوجوان نے دعویٰ کیا کہ پولیس موقع پر موجود تھی اور یہ سب اسی کی موجودگی میں ہوا۔ اس نے کہا کہ پرویش ورما کو معافی مانگنی چاہیے اور اگر معطلی سمیت کسی تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے تو وہ بھی کی جانی چاہیے۔ صاحب نے کہا کہ یہ محض الزامات نہیں ہیں بلکہ واقعے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ اس کے مطابق اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے اور اب قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
आज की घटना के पीछे की पूरी सच्चाई सुनिए…लेकिन जो हुआ वो नहीं होना चाहिए था । https://t.co/qWnMkPQtnJ
— Parvesh Sahib Singh (@p_sahibsingh) September 27, 2026
وزیر پرویش ورما نے دی صفائی
نوجوان کو تھپڑ مارنے کے معاملے میں دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما نے بھی اپنی صفائی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جو کچھ ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ پرویش ورما نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ ڈال رہے تھے اور ان پر بدعنوانی کے جھوٹے الزامات عائد کر رہے تھے۔ وزیر کے مطابق، رکن اسمبلی کے حامی انہیں اور ان کے اہل خانہ کو گالیاں دے رہے تھے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ آپ رکن اسمبلی نے افسران سے کمیشن کا مطالبہ کیا تھا۔ پرویش ورما نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے میں آپ رکن اسمبلی جرنیل سنگھ کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



