اتر پردیش کے رائے بریلی میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی PDA رتھ یاترا کا منفرد انداز میں استقبال کیا گیا۔ رائے بریلی جاتے ہوئے راستے میں کئی مقامات پر سماج وادی پارٹی کے کارکن اکھلیش یادو کے رتھ کا استقبال کر رہے ہیں۔ اسی دوران کنّوا کے قریب ایک استقبالیہ مقام پر الگ ہی منظر دیکھنے کو ملا، جہاں تین بلڈوزر کھڑے کیے گئے تھے۔ جیسے ہی اکھلیش یادو کا PDA رتھ وہاں پہنچا، بلڈوزروں کے ذریعے ان کے رتھ پر پھول برسائے گئے۔ بلڈوزر سے پھول برسا کر کیے گئے اس استقبال کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ اتر پردیش کی سیاست میں بلڈوزر ایک نمایاں سیاسی علامت کے طور پر زیرِ بحث رہا ہے، ایسے میں اکھلیش یادو کی رتھ یاترا کے دوران اسی انداز میں پھول برسائے جانے کی تصویر نے توجہ حاصل کی ہے۔
17 ستمبر کے تنازع کے بعد رائے بریلی پہنچے اکھلیش
اکھلیش یادو کے رائے بریلی دورے کی ایک وجہ 17 ستمبر کو فیروز گاندھی ڈگری کالج میں پیش آنے والا تنازع بھی ہے۔ کالج میں سماج وادی چھاتر سبھا اور اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی، جس کے بعد سماج وادی پارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان بھی آمنے سامنے کی صورت حال پیدا ہوئی تھی۔ سماج وادی پارٹی نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے تھے۔ اسی واقعے کے بعد اکھلیش یادو نے رائے بریلی آنے اور PDA رتھ یاترا شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
رائے بریلی پہنچنے کے بعد اکھلیش یادو ہرچند پور سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی راہل لودھی کی رہائش گاہ بھی جائیں گے۔ رپورٹس کے مطابق وہ یہاں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے قیام کریں گے اور پارٹی کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔ کالج تنازع کے بعد راہل لودھی کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ الزام ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔ اکھلیش یادو نے اس معاملے کو لودھی برادری کی توہین قرار دیتے ہوئے رائے بریلی جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
PDA کے ذریعے پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات تک رسائی
اکھلیش یادو کی اس یاترا کو سماج وادی پارٹی کی آئندہ سیاسی سرگرمیوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ پارٹی کی جانب سے PDA یعنی پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات کے درمیان تنظیمی رابطہ بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ رائے بریلی سے شروع ہونے والی رتھ یاترا میں بھی اسی پیغام کو نمایاں کیا گیا ہے۔ رائے بریلی کا انتخاب بھی سیاسی طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں رائے بریلی ضلع کی پانچ اسمبلی نشستوں میں سے چار پر سماج وادی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



