وزیراعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں ملک میں اہم معدنیات کی ری سائیکلنگ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 1,500 کروڑ روپے کی انسینٹو اسکیم کی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبہ نیشنل کرٹیکل منرل مشن (NCMM) کا حصہ ہے، جس کا مقصد ثانوی ذرائع سے قیمتی معدنیات کو الگ کرنے اور پیداوار کی گنجائش اور سپلائی چین کو پائیدار بنانا ہے۔
قلیل مدت میں پائیدار متبادل
حکومت کے مطابق اہم معدنیات کی ویلیو چین، جس میں تلاش، نیلامی، کانوں کا آغاز اور بیرونِ ملک اثاثوں کا حصول شامل ہے، اپنی پیداوار شروع کرنے میں وقت لیتی ہے۔ اس لیے قلیل مدت میں سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کا بہترین طریقہ ری سائیکلنگ ہے۔ اسکیم کی مدت مالی سال 2025-26 سے 2030-31 تک چھ سال ہوگی، جس میں ای ویسٹ، لیتھیم آئن بیٹری (LIB) اسکریپ اور دیگر صنعتی فضلہ، جیسے ختم شدہ گاڑیوں کے کیٹالیٹک کنورٹرز، شامل ہوں گے۔
بڑے اور چھوٹے دونوں ادارے مستفید ہوں گے
اس اسکیم سے نہ صرف بڑی اور قائم شدہ ری سائیکلنگ کمپنیاں فائدہ اٹھا سکیں گی بلکہ چھوٹے اور نئے ادارے، بشمول اسٹارٹ اپس بھی مستفید ہوں گے۔ کُل فنڈ کا ایک تہائی حصہ خاص طور پر چھوٹے اور نئے یونٹس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
سرمایہ اور آپریشنل اخراجات پر مراعات
اسکیم کے تحت سرمایہ جاتی اخراجات (Capex) پر 20 فیصد سبسڈی اور آپریشنل اخراجات (Opex) پر فروخت میں اضافے کے مطابق مراعات فراہم کی جائیں گی۔ بڑی کمپنیوں کے لیے کل سبسڈی کی حد 50 کروڑ روپے جبکہ چھوٹے اداروں کے لیے 25 کروڑ روپے رکھی گئی ہے، جس میں آپریشنل اخراجات کی سبسڈی کی بالائی حد بالترتیب 10 کروڑ اور 5 کروڑ روپے ہوگی۔
متوقع فوائد اور مشاورت کا عمل
حکومت کو توقع ہے کہ اس اسکیم سے کم از کم 270 کلوٹن سالانہ ری سائیکلنگ صلاحیت پیدا ہوگی، جس سے تقریباً 40 کلوٹن اہم معدنیات حاصل ہوں گے۔ اس اقدام سے 8,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 70 ہزار براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔ اسکیم کو حتمی شکل دینے سے قبل صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں سے کئی مرحلوں میں مشاورت کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




