Bharat Express DD Free Dish

PM Modi’s Programs in Mumbai: ممبئی میں پی ایم مودی کے پروگرام سے پہلے دو مشتبہ افراد گرفتار، بندوق اور پی ایم او کا فرضی شناختی کارڈ برآمد

ممبئی پولیس کے مطابق الزام ہے کہ تین افراد نے ایک مشتبہ سرکاری شناختی کارڈ کا استعمال کیا اور ہتھیار کے ساتھ مال کی سکیورٹی کو عبور کرکے بی کے سی کے جیو ورلڈ پلازا میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک شخص نے خود کو پی ایم او کا افسر بتایا، اس کے باڈی گارڈ کے پاس سے بندوق بھی ملی ہےجبکہ تیسرا ملزم فرار ہے

ممبئی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک پروگرام سے قبل سکیورٹی کے حوالے سے بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ممبئی پولیس نے باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC) میں واقع نیتا مکیش امبانی کلچرل سینٹر (NMACC) سے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان میں سے ایک شخص نے خود کو وزیر اعظم کے دفتر (PMO) کا افسر بتایا تھا۔ جانچ کے دوران اس کے پاس سے پی ایم او کا فرضی شناختی کارڈ برآمد ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ اس کے ساتھ موجود باڈی گارڈ کے پاس سے بندوق ملی ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب وزیر اعظم نریندر مودی کو بی کے سی کے جیو ورلڈ سینٹر میں گلوبل فن ٹیک فیسٹ 2026 کا افتتاح کرنا تھا اور تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ واقعے کے بعد معاملے کی مزید تفتیش ممبئی کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے۔

ملزم نے خود کو پی ایم او کا افسر بتایا

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے ایک کی شناخت روہن پاریکھ کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ روہن 7 ستمبر کو فرضی شناختی کارڈ کے ساتھ پروگرام کے مقام کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران ممبئی پولیس کی نظر اس پر پڑی اور اس کی جانچ کی گئی۔ تلاشی کے دوران اس کے پاس موجود شناختی کارڈ مشتبہ پائے گئے اور جانچ میں انہیں فرضی قرار دیا گیا۔ اس کے بعد بی کے سی پولیس اسٹیشن میں روہن اور اس کے باڈی گارڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر کرائم برانچ اس پورے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

باڈی گارڈ کے پاس سے بندوق برآمد

ممبئی پولیس کے مطابق روہن کے ساتھ ایک باڈی گارڈ بھی موجود تھا، جس کے پاس سے بندوق برآمد ہوئی۔ باڈی گارڈ کی شناخت تقریباً 45 سالہ دلیپ کندے کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مشتبہ شخص کی عمر تقریباً 24 سال ہے اور وہ خود کو وزیر اعظم کے دفتر کا افسر بتا رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ فرضی پی ایم او شناختی کارڈ تیار کرنے اور ہتھیار کے ساتھ پروگرام کے مقام میں داخل ہونے کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد سی آئی یو یونٹ ملزم کو عدالت لے کر پہنچی۔ روہن ممبئی کے کھار علاقے کا رہنے والا بتایا گیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ روہن واقعے سے ایک رات پہلے ہی پروگرام کے مقام پر پہنچ گیا تھا۔ دوسری جانب پولیس اب بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے پی ایم او کے نام سے فرضی شناختی کارڈ کیوں تیار کیا اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔

وکیل کا دعویٰ، روہن خود متاثرہ شخص ہے

روہن پاریکھ کے وکیل اور سینئر ایڈووکیٹ ستیش مانیشندے نے کہا کہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے، اس لیے مکمل جانچ اور تصدیق کے بعد ہی وہ اس حوالے سے بیان دیں گے۔ وکیل کے مطابق روہن کو پی ایم او کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری کے نام سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی، تاہم اس ای میل کی اصلیت ابھی واضح نہیں ہے۔ وکیل نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ روہن ایک دن پہلے مقام کے قریب گیا تھا اور وہاں ایک مال سے پرفیوم بھی خریدا تھا۔ روہن کا دعویٰ ہے کہ وہ خود بھی اس معاملے میں متاثرہ شخص ہے اور اسے پی ایم او کے نام پر فرضی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ اس نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ ترون نامی ایک شخص نے اسے پی ایم او کے نام سے فرضی ای میل بھیجی تھی۔

وہیں اس معاملے میں ایک تیسرے شخص کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پرتھمیش باگور روہن پاریکھ کا دوست ہے اور فی الحال فرار ہے۔ پولیس اس کی تلاش کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ فرضی سرکاری شناختی کارڈ اور پروگرام کے مقام تک پہنچنے کے معاملے میں اس کا کیا کردار تھا۔ عدالت نے فی الحال دونوں گرفتار ملزمان کو 11 ستمبر تک پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ کرائم برانچ اب ملزمان سے پوچھ گچھ کے ساتھ ساتھ فرضی شناختی کارڈ اور ای میل سے متعلق معلومات کی بھی جانچ کر رہی ہے۔

سرکاری شناخت کا استعمال کرکے داخل ہونے کا الزام

ممبئی پولیس کے مطابق الزام ہے کہ تین افراد نے ایک مشتبہ سرکاری شناختی کارڈ کا استعمال کیا اور ہتھیار کے ساتھ مال کی سکیورٹی کو عبور کرکے بی کے سی کے جیو ورلڈ پلازا میں داخل ہوئے۔ اس معاملے میں بی کے سی پولیس اسٹیشن میں سرکاری ملازم ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے اور ہتھیار کے ساتھ غیر قانونی طور پر داخل ہونے سمیت بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے ہتھیار کا لائسنس بظاہر درست پایا گیا ہے، تاہم ہتھیار کے استعمال اور اسے مقام تک لے جانے کے حالات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ فی الحال دو افراد گرفتار ہیں جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔ کرائم برانچ اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ فرضی پی ایم او شناختی کارڈ کس نے تیار کیا اور ملزمان کو پروگرام کے مقام تک پہنچنے کے لیے کس نے معلومات فراہم کیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔