دارالحکومت دہلی میں مسلسل تیسرے دن اسکولوں اور کالجوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ ان دھمکیوں سے طلبہ، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دھمکیاں ای میل کے ذریعے بھیجی جا رہی ہیں، جس کے بعد دہلی پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ چوکس ہو گئے ہیں۔
16 جولائی کو دوارکا میں واقع سینٹ تھامس اسکول اور ایک اور اسکول کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی۔ اس سے پہلے 15 جولائی کو بھی سینٹ تھامس اسکول کے علاوہ دہلی یونیورسٹی کے سینٹ اسٹیفن اور رام جس کالج کو بھی ایسی ہی دھمکی ملی تھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام اداروں کو خالی کروایا اور بھرپور تلاشی مہم چلائی، لیکن کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔
سائنٹسٹ ڈیفینس کالج کوای میل کے ذریعے دھمکی
اسی طرح دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں واقع سائنٹسٹ ڈیفینس کالج کو صبح 7:15 پر ای میل کے ذریعے دھمکی موصول ہوئی کہ کالج اور لائبریری میں آر ڈی ایکس رکھا گیا ہے اور کالج کو بم سے اڑانے کی منصوبہ بندی ہے۔ کالج انتظامیہ نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ فائر بریگیڈ، بم اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر پورے کالج میں سرچ آپریشن کیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک مہینہ پہلے بھی اسی کالج کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی تھی، جب طلبہ کالج میں موجود تھے۔ اس بار کالج کی چھٹیاں چل رہی تھیں، اس لیے اندر صرف چند ملازمین اور گارڈز موجود تھے۔ تمام افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
14 جولائی کو بھی چانکیہ پوری کے نیوی اسکول اور دوارکا کے سی آر پی ایف اسکول کو بم کی کال موصول ہوئی تھی۔ ہر بار دھمکیاں ای میل یا کال کے ذریعے دی جا رہی ہیں، لیکن ابھی تک کسی جگہ سے کوئی دھماکہ خیز مواد یا مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔
پولیس تمام دھمکی آمیز ای میلز کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ ای میلز کس نے اور کیوں بھیجی ہیں۔ مسلسل موصول ہو رہی ان دھمکیوں نے سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکس کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



