Bharat Express DD Free Dish

Trump’s big statement on Indo-Pak Ceasefire: ہند-پاک جنگ بندی پر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، کہا-میں نے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر کیا مجبور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ’’تجارت‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کو جنگ روکنے پر مجبور کیا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کو لے کر ملک میں حزب اختلاف نے پہلے ہی مودی حکومت کو امریکی ثالثی کے حوالے سے گھیر رکھا ہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ’’تجارت‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کو جنگ روکنے پر مجبور کیا اور ایک جوہری (نیو کلیئر) جنگ کو روکا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بہت سے اسباب ہیں، لیکن ایک اہم وجہ تجارت ہے۔ وائٹ ہاؤس میں بریس بریفنگ کے دوران ٹرمپ نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’’۔۔۔ہم نے (جنگ بندی) میں بہت مدد کی اور ہم نے تجارت کے حوالے سے بھی مدد کی۔ میں نے کہا کہ میں دونوں ممالک کے ساتھ بہت سی تجارت کرنے والا ہوں۔ تو جنگ روک دو۔‘‘

تجارت کی دھمکی دے کر رکوائی جنگ، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

ٹرمپ نے کہا میں نے تجارت کی دھمکی دے کر رکوائی ہے جنگ۔ ٹرمپ نے کہا ’’اگر جنگ روکوگے تو ہم تجارت کریں گے اور اگر جنگ نہیں روکوگے تو ہم کوئی بھی تجارت نہیں کریں گے۔ لوگوں نے تجارت کو کبھی اس طرح استعمال نہیں کیا ہے، جیسے میں نے کیا۔ اس کے بعد میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اچانک ہی دونوں ممالک نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم جنگ روکنے جا رہے ہیں اور دونوں نے جنگ روک دی۔‘‘

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان نے جنگ بندی کے لیے کسی کی بھی ثالثی سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ بندی دوطرفہ بات چیت کے بعد ہوئی ہے اور پاکستان کی درخواست پر کی گئی ہے۔ تاہم ٹرمپ کا تازہ بیان حکومت کے اس دعوے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیتا ہے۔ کانگریس پہلے ہی اس حوالے سے حکومت کو گھیرے ہوئے ہے کہ جنگ بندی کی اطلاع ہمیں ٹرمپ سے کیوں ملی، حکومت سے کیوں نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آٹھ بجے وزیر اعظم مودی ملک سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read