Bharat Express DD Free Dish

Student raped inside law college: کولکاتہ لاء کالج میں طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ، تین ملزمان گرفتار،سوالوں کے گھیرے میں ممتا سرکار

پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہیتا (بی این ایس) اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

کولکاتہ کے ساؤتھ کولکاتہ لاء کالج میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا جہاں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں تین ملزمان، منوجیت مشرا، زیب احمد اور پرامت مکھوپادھیائے کو گرفتار کیا ہے۔ یہ واقعہ 25 جون 2025 کی شام کو کالج کے احاطے میں پیش آیا، جب متاثرہ طالبہ کو تینوں ملزمان نے مبینہ طور پر کالج کے ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ پولیس نے متاثرہ کی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی اور ملزمان کے موبائل فونز ضبط کر لیے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق، یہ واقعہ شام 7:30 سے 8:50 بجے کے درمیان پیش آیا۔ دو ملزمان، منوجیت مشرا اور زیب احمد کو 26 جون کی شام کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تیسرے ملزم پرامت مکھوپادھیائے کو 27 جون کی رات 12:30 بجے ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ متاثرہ طالبہ کا طبی معائنہ کولکاتہ کے ایک سرکاری ہسپتال، کلکتہ نیشنل میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں کرایا گیا۔ پولیس نے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ یہ واقعہ گزشتہ سال اگست 2024 میں آر جی کر میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ پیش آنے والے عصمت دری اور قتل کے واقعے کے تقریباً دس ماہ بعد سامنے آیا ہے، جس نے شہر میں خواتین کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔

اس واقعے نے کولکاتہ میں خواتین کی حفاظت اور تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے، جہاں صارفین نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کی حکومت پر تنقید کی ہے۔ کچھ پوسٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالجوں میں غیر مجاز افراد کی آمدورفت کو روکنے کے لیے مناسب سیکیورٹی انتظامات نہیں ہیں۔ اس واقعے نے مقامی کمیونٹی اور طلبہ میں خوف و ہراس پھیلایا ہے، اور عوام کی جانب سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔وہیں بی جے پی اس معاملے پر ممتاحکومت کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

ادھرپولیس نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہیتا (بی این ایس) اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فرانزک ٹیم جائے وقوعہ پر شواہد اکٹھا کر رہی ہے، اور پولیس مزید گواہوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ عوامی دباؤ کے پیش نظر، حکام نے کالج کے سیکیورٹی پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔ شہریوں اور طلبہ تنظیموں نے احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے، اور خواتین کی حفاظت کے لیے بہتر اقدامات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read