یمنا ایکسپریس وے پر حادثات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بدھ کی دیر رات گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک سلیپر بس میں شدید آگ لگنے سے 9 افراد کی موت ہوگئی، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر اس ایکسپریس وے پر اتنے زیادہ حادثات کیوں پیش آتے ہیں؟
یمنا ایکسپریس وے پر ہی زیادہ حادثات کیوں؟
بدھ کی رات تقریباً 11:30 بجے گریٹر نوئیڈا کے یمنا ایکسپریس وے پر ایک سلیپر بس میں اچانک شدید آگ لگ گئی۔ بس میں تقریباً 30 سے 35 مسافر سوار تھے۔ حادثے میں 9 افراد زندہ جل گئے، جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ رات کے وقت ہونے والے حادثات کی ایک عام وجہ ڈرائیور کو نیند آ جانا یا جھپکی لگنا بتائی جاتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے۔ ایکسپریس وے کی ساخت، موسم، گاڑیوں کی حالت اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی جیسے کئی عوامل حادثات کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
سڑک کا زیادہ درجہ حرارت بھی بن سکتا ہے وجہ
گرمی کے موسم میں براہ راست دھوپ پڑنے سے سڑک کی سطح کا درجہ حرارت کافی بڑھ جاتا ہے۔ اس کا اثر گاڑیوں کے ٹائروں پر بھی پڑتا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ٹائروں کے اندر ہوا کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے ٹائر پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب ٹائر پہلے ہی پرانے یا خراب حالت میں ہوں۔
دھند اور بارش میں کم ہوتی ہے حدِ نگاہ
یمنا ایکسپریس وے پر موسم بھی حادثات کی ایک اہم وجہ بن سکتا ہے۔ سردیوں میں گھنی دھند کے دوران حدِ نگاہ بہت کم ہوجاتی ہے، جبکہ بارش کے دوران بھی ڈرائیوروں کو سڑک اور آس پاس کی گاڑیوں کو دیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں تیز رفتار گاڑیوں کے لیے اچانک بریک لگانا یا دوسری گاڑی سے فاصلہ برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
پرانے اور گھسے ہوئے ٹائر بھی خطرناک
کئی مرتبہ گاڑی مالکان اخراجات کم کرنے کے لیے پرانے یا گھسے ہوئے ٹائروں کا استعمال کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں خراب ٹائروں کی مرمت کروا کر انہیں دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تیز رفتار ایکسپریس وے پر ایسے ٹائروں کے پھٹنے یا گاڑی کا توازن بگڑنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
165 کلومیٹر کی سیدھی سڑک اور ’ہائی وے ہپناٹائزیشن‘
گریٹر نوئیڈا کو آگرہ سے جوڑنے والا یمنا ایکسپریس وے تقریباً 165 کلومیٹر طویل ہے۔ اس کا بڑا حصہ سیدھا ہے اور سڑک پر لمبے فاصلے تک ایک جیسا منظر دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین ڈرائیونگ کے دوران اس طرح کے یکساں ماحول کو ’ہائی وے ہپناٹائزیشن‘ سے جوڑتے ہیں۔ اس کیفیت میں ڈرائیور طویل عرصے تک ایک ہی رفتار اور ایک جیسے راستے پر گاڑی چلاتے ہوئے توجہ میں کمی محسوس کرسکتا ہے، جس سے حادثے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی
حادثات کی ایک بڑی وجہ تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنا بھی ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات گاڑیاں ایکسپریس وے کے کنارے غیر مقررہ مقامات پر کھڑی کردی جاتی ہیں، حالانکہ راستے میں رکنے کے لیے مخصوص مقامات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ غیر مجاز مقامات سے ایکسپریس وے پر داخل ہونے کی کوشش بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
ایک سال میں یمنا ایکسپریس وے کے بڑے حادثات
16 دسمبر 2025، متھرا: گھنی دھند کے دوران یمنا ایکسپریس وے پر میل اسٹون 127 کے قریب تقریباً 15 سے 19 گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ ان میں 8 بسیں اور کئی کاریں شامل تھیں۔ تصادم کے بعد متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور 17 افراد کی موت ہوگئی۔ 19 جولائی 2025، متھرا: آگرہ سے دہلی جانے والی ایک ایکو گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ڈرائیور کو جھپکی آنے کے باعث حادثہ پیش آیا۔ اس میں 6 افراد کی موقع پر موت ہوئی جبکہ 2 زخمی ہوئے۔ 30 جون 2026: میل اسٹون 112-113 کے قریب ایک وولوو مسافر بس اور ٹریلر ٹرک کے درمیان تصادم ہوا۔ حادثے میں 4 افراد کی موت ہوئی جبکہ تقریباً 20 افراد شدید زخمی ہوئے۔31 اگست 2026، گریٹر نوئیڈا: جیور علاقے میں ایک ٹرک بے قابو ہوکر ایکسپریس وے کی ریلنگ توڑتے ہوئے دوسری جانب چلا گیا اور ایک کار سے ٹکرا گیا۔ حادثے میں 4 افراد کی موت ہوئی۔یمنا ایکسپریس وے پر ہونے والے یہ حادثات ظاہر کرتے ہیں کہ تیز رفتاری، گاڑیوں کی حالت، موسم، ڈرائیور کی توجہ اور ٹریفک قوانین پر عمل جیسے کئی عوامل سڑک کی حفاظت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بدھ کی رات کا بس حادثہ بھی اسی وسیع حفاظتی چیلنج کی جانب ایک بار پھر توجہ دلاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



