ہندوستان کے چیف جسٹس، جسٹس بی آر گَوَئی نے پیر کے روز لندن کی مشہور کیمبرج یونیورسٹی میں Role of Technology to Improve Access to Justice کے عنوان سے خطبہ دیا۔ جسٹس گَوَئی نے ’’انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے میں ٹیکنالوجی کا کردار‘‘ کے موضوع پر اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ ہندوستان جیسے وسیع و متنوع ملک میں، جہاں 1.2 ارب سے زائد افراد 3.3 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں اور 121 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، ہر شہری تک انصاف پہنچانا ایک بڑا چیلنج ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’انصاف تک رسائی کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہے اور آئین کے مطابق ہر شہری کو بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ٹیکنالوجی انصاف تک رسائی کو وسعت دینے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے، جو نہ صرف قانونی نظام میں پائی جانے والی رکاوٹوں کو کم کر رہی ہے بلکہ عدالتی شفافیت اور جواب دہی کو بھی فروغ دے رہی ہے۔‘‘
آئینی بنیاد اور عملی اقدامات
چیف جسٹس بی آر گَوَئی نے آرٹیکل 32، 226 اور 39-A جیسے آئینی نکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعات شہریوں کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس تک رسائی کا حق دیتی ہیں اور مفت قانونی امداد کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’عدالتوں اور قوانین کی موجودگی ہی کافی نہیں، بلکہ عام افراد کو عدالتی نظام کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا اصل کامیابی ہے۔‘‘
روایتی رکاوٹیں اور جدید حل
جسٹس بی آر گوئی نے تسلیم کیا کہ ’’جغرافیائی بُعد، سماجی امتیاز اور معاشی مشکلات وہ بنیادی رکاوٹیں ہیں جنھوں نے ماضی میں شہریوں کو قانونی انصاف سے محروم رکھا۔ تاہم ٹیکنالوجی ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ویڈیو کانفرنسنگ، آن لائن مقدمات کی سماعت، SUVAS ترجمہ سافٹ ویئر، نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (NJDG)، ای-سروس مراکز (e-Sewa Kendras) اور ای-کورٹس پورٹل جیسے منصوبے شہریوں کو عدالتوں سے جوڑ رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج ایک وکیل بہار یا مہاراشٹر کے دیہی علاقے سے سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہو سکتا ہے، جو جغرافیائی بُعد کی رکاوٹ دور کرنے کی ایک نئی مثال ہے۔‘‘
NALSA اور جدید قانونی امداد
جسٹس گَوَئی نے ہندوستانی حکومت کی نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (NALSA) کی ڈیجیٹل خدمات، جیسے LESA (AI چیٹ بوٹ)، Nyay Mitra اسکیم اور Nyay Sampark مراکز کو بھی سراہا، جو دیہی اور پسماندہ طبقات کو قانونی معلومات اور امداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے چیلنجز: ڈیجیٹل خلیج اور الگورتھم پر مبنی امتیاز
چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ ’’اگرچہ ٹیکنالوجی انصاف کو قریب لا رہی ہے، لیکن ڈیجیٹل تقسیم، ڈیجیٹل ناخواندگی، رازداری کے خدشات اور الگورتھم کی بنیاد پر امتیاز جیسے خطرات بھی لاحق ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ٹیکنالوجی انصاف کی خدمت اسی وقت کر سکتی ہے جب اس کی بنیاد رسائی اور شمولیت پر رکھی جائے۔‘‘
مستقبل کی سمت: پالیسیاں، اصول اور شفافیت
چیف جسٹس آف انڈیا نے زور دیا کہ ’’ٹیکنالوجی عدالتی فیصلے کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، بلکہ اسے ججوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘ انھوں نے تجویز دی کہ ’’حکومت اور عدلیہ کو ایسے اصول، پالیسیاں اور اخلاقی ضوابط مرتب کرنے ہوں گے جو AI اور ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کو شفاف اور قابل احتساب بنائیں۔‘‘
علمی اداروں سے تعاون کی اپیل
اپنے خطاب کے آخر میں انھوں نے یونیورسٹی آف کیمبرج جیسے اداروں پر زور دیا کہ وہ قانونی تعلیم، ٹیکنالوجی، اور تحقیق کے ذریعے انصاف کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کریں۔ جسٹس بی آر گَوَئی نے کہا کہ ’’یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو انسانی وقار، مساوات اور آئینی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک ایسا نظام بنائیں جو ہر شہری کے لیے قابل رسائی ہو۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


