Bharat Express DD Free Dish

Acharya Pramod Krishnam Demands High Level Investigation : ٹاٹا گروپ میں بدعنوانی کے الزامات، آچاریہ پرمود کرشنم نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا کیا مطالبہ

کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے صنعت کاروں کے سب سے معتبر ادارے ٹاٹا گروپ سے متعلق سامنے آ رہی بدعنوانی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ صنعتی دنیا کی ‘روح’ ٹاٹا گروپ ہے، لیکن جس طرح بدعنوانی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ نہایت افسوسناک اور ملک کے لیے تشویشناک ہیں۔

آچاریہ پرمود کرشنم۔ (فائل فوٹو)

کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے صنعت کاروں کے سب سے معتبر ادارے ٹاٹا گروپ سے متعلق سامنے آ رہی بدعنوانی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ صنعتی دنیا کی ‘روح’ ٹاٹا گروپ ہے، لیکن جس طرح بدعنوانی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ نہایت افسوسناک اور ملک کے لیے تشویشناک ہیں۔ رتن ٹاٹا کے جانے کے بعد، جوتا، سائیکل اور چھاتا بیچنے کے نام پر 3 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ دکھا کر جس انداز میں مالی دھوکہ دہی کی جا رہی ہے، وہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف نوئل ٹاٹا کی انتظامی ناکامی نہیں ہو سکتا بلکہ ممکنہ طور پر کسی بڑے مالیاتی گھوٹالے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی مرکزی تفتیشی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی سنجیدگی سے مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔

 

آچاریہ پرمود کرشنم کا کہنا تھا کہ ٹاٹا گروپ صرف ایک کاروباری ادارہ نہیں بلکہ ایک قومی ورثہ ہے اور ملک کا کوئی بھی شہری اسے زوال پذیر ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہے گا۔ فی الحال ٹاٹا گروپ کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے زیر بحث ہے۔

 

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read