Bharat Express DD Free Dish

Haldwani Railway Land Dispute Case: ’’قبضہ کرنے والے طے نہیں کریں گے…‘‘ ہلدوانی ریلوے زمین معاملے میں سپریم کورٹ کا بڑا حکم

ہلدوانی کے بن بھولپورہ علاقے میں ریلوے زمین پر مبینہ تجاوزات کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو چھ ماہ تک مالی امداد اور پی ایم اے وائی کے تحت درخواست دینے کا موقع دیا جائے گا۔ 

اتراکھنڈ کے ہلدوانی کے بن بھولپورہ علاقے میں ریلوے کی زمین پر قائم مبینہ غیر قانونی قبضوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور اس کا استعمال کس طرح ہونا ہے، یہ فیصلہ ریلوے ہی کرے گا۔ وہاں رہنے والے لوگ یہ مطالبہ نہیں کر سکتے کہ انہیں اسی مقام پر مستقل طور پر بسایا جائے۔

سپریم کورٹ کی ہدایات

عدالت نے کہا کہ سب سے پہلے ان خاندانوں کی شناخت کی جائے جو اس کارروائی سے متاثر ہوں گے۔ اگر انہیں وہاں سے ہٹایا جاتا ہے تو ریلوے اور ریاستی حکومت مل کر اہل خاندانوں کو چھ ماہ تک ہر ماہ دو ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کریں گے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ ضلع نینی تال انتظامیہ، محکمہ مال اور ریلوے مل کر خصوصی کیمپ لگائیں۔ ان کیمپوں میں معاشی طور پر کمزور طبقے (EWS) کے افراد پردھان منتری آواس یوجنا (PMAY) کے تحت درخواست دے سکیں گے۔ عید (19 مارچ) کے بعد ایک ہفتے کا خصوصی کیمپ منعقد کیا جائے گا۔ ساتھ ہی بن بھولپورہ میں بازآبادکاری مرکز قائم کرنے اور ہر خاندان کے سربراہ کو وہاں رجسٹریشن کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگلی سماعت اپریل میں ہوگی اور تب تک ریلوے زمین سے تجاوزات ہٹانے کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ تاہم یہ راحت اتراکھنڈ کے دیگر غیر قانونی قبضوں پر لاگو نہیں ہوگی۔

حکومت کا کیا ہے موقف؟

مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ہلدوانی اتراکھنڈ میں ریلوے لائن کا آخری بڑا اسٹیشن ہے۔ اس کے آگے پہاڑی علاقہ اور دریا ہونے کی وجہ سے توسیع مشکل ہے، اس لیے یہ زمین ریلوے کی توسیع کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حکومت کے مطابق 13 پلاٹس فری ہولڈ ہیں، جن پر معاوضہ دیا جائے گا۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے کہا کہ اہل افراد کو چھ ماہ تک وظیفہ دیا جائے گا۔

درخواست گزاروں کے دلائل

سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ تقریباً 50 ہزار لوگ کئی دہائیوں سے وہاں مقیم ہیں اور ریلوے نے اب تک توسیع کا واضح منصوبہ پیش نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی بازآبادکاری آسان کام نہیں ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سرکاری زمین ہے اور قبضہ کرنے والے یہ طے نہیں کر سکتے کہ ریلوے کس زمین کا استعمال کرے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ جھگیوں میں رہنے والے افراد کے ساتھ انسانی ہمدردی کا برتاؤ ہونا چاہیے اور انہیں باعزت زندگی کا حق حاصل ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read