سپریم کورٹ
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایک خاتون کی اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس نے اپنی نابالغ بیٹی کے لیے نان و نفقہ کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ڈی این اے جانچ میں یہ واضح ہو گیا کہ جس شخص کو مدعا علیہ قرار دیا گیا تھا، وہ بچی کا حیاتیاتی باپ نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے سائنسی شواہد قانون میں مانے جانے والے جواز کے تصور سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
عدالتی بنچ اور کیس کی تفصیل
یہ فیصلہ جسٹس سنجے کرول اور جسٹس این کے سنگھ کی بنچ نے سنایا۔ خاتون نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں بچی کے نان و نفقہ سے انکار کیا گیا تھا، حالانکہ خاتون کے ذاتی نان و نفقہ کے مطالبے پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
کیا ہے معاملے کا پس منظر؟
خاتون نے الزام لگایا تھا کہ جس شخص کے گھر وہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی، اس نے شادی کا جھانسہ دے کر اس سے تعلقات قائم کیے۔ بعد میں دونوں نے 2016 میں شادی کر لی اور اگلے ہی مہینے بچی کی پیدائش ہوئی۔ کچھ عرصے بعد دونوں کے درمیان تنازع بڑھ گیا اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
پدریت پر تنازع اور ڈی این اے جانچ
سماعت کے دوران مدعا علیہ نے خود کو بچی کا باپ ماننے سے انکار کرتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ رپورٹ میں واضح ہوا کہ وہ شخص بچی کا حیاتیاتی والد نہیں ہے، جس بنیاد پر نچلی عدالت نے نان و نفقہ کی درخواست خارج کر دی۔ اس کے بعد اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
قانونی مفروضہ بمقابلہ سائنسی ثبوت
سپریم کورٹ میں بحث اس نکتے پر مرکوز تھی کہ قانون کے مطابق شادی کے دوران پیدا ہونے والا بچہ شوہر کا ہی تصور کیا جاتا ہے، جب تک اس کے برعکس ثابت نہ ہو۔ حالانکہ، عدالت نے کہا کہ جب سائنسی ثبوت حقیقت کو واضح کر دیں تو اس مفروضے کو لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
بچے کے مفاد پر عدالت کی تشویش
عدالت نے کہا کہ یہ قانونی اصول بچوں کو سماجی بدنامی سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن ٹھوس سائنسی شواہد کے سامنے اس کا دائرہ محدود ہو جاتا ہیں۔ جسٹس کرول کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے کہا کہ قانون سازوں کا مقصد واضح ہے۔ ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کے باوجود، یہ قانونی مفروضہ کسی بھی بچے کو ’ناجائز‘ کا لیبل لگنے کے بدنما داغ سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ جب ٹھوس، سائنسی ثبوت موجود ہوں تو اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے یہ بھی کہا کہ جب کسی قانونی مفروضے اور سائنسی طور پر ثابت شدہ حقائق کے درمیان ٹکراؤ ہو تو سائنسی شواہد کو زیادہ وزن دیا جانا چاہیے۔
اپنے حکم میں، عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس معاملے میں ڈی این اے ٹیسٹ دونوں فریقین کی رضامندی سے کرایا گیا تھا اور بعد میں اس پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ عدالت نے کہا کہ اس صورتحال میں نتیجہ حتمی ہے۔
اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے بچے کی نان و نفقہ سے انکار کرنا درست تھا اور خاتون کی اپیل کو بے بنیاد قرار دیا۔ حالانکہ، عدالت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پورے تنازع نے بچے کو متاثر کیا ہے، اور اس کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کے خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کو ہدایت دی کہ وہ بچے کی حالت کی جانچ کرے۔ ایک اہلکار کو بچے کے گھر بھیجا گیا تاکہ اس کی تعلیم، خوراک، صحت اور بنیادی ضروریات تک رسائی سمیت اس کے حالات زندگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر تحقیقات میں بچے کی حالت میں کوئی خامی ظاہر ہوتی ہے تو محکمہ فوری طور پر ضروری اصلاحی اقدامات کرے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
