نئی دہلی :بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کے خلاف دیودھر چارہ گھوٹالہ معاملے میں سزا کی معطلی کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ آف انڈیا اپریل سے سماعت کرے گا۔ مرکزی جانچ ایجنسی سی بی آئی نے عدالت عظمیٰ میں عرضی دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سزا یافتہ ملزمان غیر قانونی طور پر باہر ہیں اور ان کی سزا کی معطلی کو برقرار نہیں رکھا جانا چاہیے۔ منگل کے روز جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کے سنگھ پر مشتمل بنچ نے اس معاملے پر ابتدائی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سی بی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ تمام ملزمان سزا سنائے جانے کے بعد بھی باہر ہیں، جو قانوناً درست نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے سزا کی معطلی کے احکامات کو منسوخ کرنے کی اپیل کی۔
اس پر عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ فائلیں طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اپریل میں باقاعدہ سماعت کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جن مقدمات میں مدعا علیہان کا انتقال ہو چکا ہے، انہیں بند کر دیا جائے گا۔ دیودھر چارہ گھوٹالہ 1990 سے 1994 کے درمیان پیش آیا، جس میں دیودھر چارہ گھوٹالہ سے تقریباً 89 لاکھ روپے کی مبینہ خرد برد کا الزام ہے۔ اس کیس میں لالو پرساد یادو کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ سال 2017 میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے انہیں تین سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
تحقیقات کے مطابق محکمہ حیوانات دیودھر کو ادویات اور اسپتال کے سامان کی خریداری کے لیے تقریباً 4.7 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے،قابل ذکر بات یہ ہے کہ الزام ہے کہ فرضی رسیدوں کے ذریعے 89 لاکھ روپے سے زائد کی رقم نکال لی گئی۔ لالو یادو پر عہدے کے غلط استعمال کا بھی الزام ہے، جس کے تحت انہوں نے جانچ سے متعلق فائل کو مبینہ طور پر اپنے پاس روکے رکھا۔ یہ معاملہ سنگین ہونے پر باقاعدہ جانچ کے احکامات دیے گئے تھے۔ لالو پرساد یادو نہ صرف دیودھر چارہ گھوٹالہ کیس میں بلکہ چار دیگر معاملات میں بھی سزا یافتہ ہیں۔ انہیں چائیباسہ ٹریژری سے غیر قانونی نکاسی کے دو مقدمات، دمکا ٹریژری کیس اور ڈورانڈا معاملے میں بھی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ اب سپریم کورٹ میں ہونے والی آئندہ سماعت اس طویل قانونی لڑائی کا اہم مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
