متنازع پوسٹ معاملہ: نیہا سنگھ راٹھور کو سپریم کورٹ سے عبوری راحت
نئی دہلی: لوک گلوکارہ اور سماجی کارکن نیہا سنگھ راٹھور کو پہلگام دہشت گرد حملے سے متعلق مبینہ متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے معاملے میں بدھ کے روز سپریم کورٹ آف انڈیا سے بڑی عبوری راحت حاصل ہوئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ان کی گرفتاری پر فی الحال روک لگا دی ہے، جس سے انہیں فوری قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ یہ معاملہ اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے سے جڑا ہوا ہے، جس میں کئی سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد نیہا سنگھ راٹھور نے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس کی تھیں، جن میں مبینہ طور پر مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی تھی۔ ان پوسٹس کو قابلِ اعتراض قرار دیتے ہوئے لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں شکایت گزار ابھئے پرتاپ سنگھ کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔
شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان پوسٹس کے ذریعے ملک میں نفرت پھیلانے اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کی، جس کے بعد نیہا سنگھ راٹھور کے خلاف گرفتاری کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ اس صورتحال کے پیش نظر انہوں نے پہلے الہ آباد ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، تاہم دسمبر 2025 میں ہائی کورٹ نے ان کی عرضی مسترد کر دی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نیہا سنگھ راٹھور نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سپریم کورٹ نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت اور شکایت گزار ابھئے پرتاپ سنگھ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے عبوری راحت دیتے ہوئے نیہا سنگھ راٹھور کی گرفتاری پر روک لگا دی، تاہم ساتھ ہی انہیں واضح ہدایت دی گئی کہ وہ 19 جنوری کو پولیس تفتیش میں شامل ہوں اور جانچ میں مکمل تعاون کریں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر نیہا سنگھ راٹھور نے تفتیش میں تعاون نہیں کیا تو اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا اور عبوری راحت پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق، معاملے کی جانچ جاری رہے گی اور قانون کے مطابق اگلی کارروائی کی جائے گی۔ قابلِ ذکر ہے کہ نیہا سنگھ راٹھور سوشل میڈیا پر اپنی سیاسی اور سماجی آرا کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان کے گیت اور بیانات اکثر عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ کی عبوری روک سے انہیں وقتی راحت ملی ہے، لیکن معاملہ ابھی زیرِ سماعت ہے اور اس پر حتمی فیصلہ آئندہ سماعت میں سامنے آئے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


