یورپی یونین کے بھارت میں سفیر ہیروے ڈیلفن نے بدھ کو کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو 2025 کے آخر تک حتمی شکل دینے کے لیے دونوں جانب سے ’’بہت مضبوط سیاسی کمٹمنٹ‘‘ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں شامل 23 ابواب میں سے 11 پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، جب کہ گاڑیوں، اسٹیل، سروسز، سرمایہ کاری اور فنی رکاوٹوں سے متعلق مسائل پر مذاکرات جاری ہیں۔ سفیر نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دونوں فریق رواں سال کے آخر تک مذاکرات مکمل کرنے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔
ہیروے ڈیلفن نے بتایا کہ یورپی یونین کے 40 رکنی مذاکراتی وفد اس ہفتے نئی دہلی پہنچ رہا ہے تاکہ باقی رہ جانے والی رکاوٹوں کا حل نکالا جا سکے۔ اس وقت بھارت اور یورپی یونین کے درمیان سامان کی دو طرفہ تجارت تقریباً 136 ارب ڈالر ہے، جس کی بنیاد پر یورپی یونین امریکا اور چین کے بعد بھارت کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدہ عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کے مطابق ہے اور اسے ’زیرو سم گیم‘ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ دونوں معیشتیں مل کر دنیا کی مجموعی جی ڈی پی اور آبادی کا تقریباً 25 فیصد حصہ بنتی ہیں۔
سفیر کے مطابق یہ شراکت طویل المدتی اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے، نہ کہ قلیل مدتی مالی فائدے کا معاملہ۔ ’’ہم بھارت کی وسیع صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، کیونکہ ہم بھارت کو مستقبل کے عالمی نظام کا اہم معمار سمجھتے ہیں،‘‘ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔ عوامی روابط کے حوالے سے سفیر نے انکشاف کیا کہ بھارتی شہری یورپی یونین کی بلیو کارڈ اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں، جہاں تقریباً 21 ہزار ہنرمند بھارتی پیشہ ور اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 1990 کی دہائی کے مقابلے میں یورپی یونین میں بھارتی تارکین وطن کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے، جو 2023 کے آخر تک 8 لاکھ 20 ہزار 500 تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجوہات روزگار اور تعلیم ہیں، اور اگر 2024 اور 2025 کے اعداد و شمار بھی شامل کیے جائیں تو تعداد مزید بڑھے گی۔‘‘ سفیر نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریق نقل و حرکت کے لیے ایک جامع فریم ورک پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ مذاکرات ابتدائی طور پر 2007 میں ’’برآڈ بیسڈ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ایگریمنٹ‘‘کے طور پر شروع ہوئے تھے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ 2013 میں ڈیری مصنوعات، آٹوموبائل ٹیرف اور دانشورانہ املاک کے حقوق جیسے حساس معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات روک دیے گئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جون 2022 میں اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے، اور اب دونوں فریق دو طرفہ تجارت کو مزید بڑھانے کے لیے ایک جدید اور جامع فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تکمیل کے قریب ہیں، جس کی موجودہ مالیت تقریباً 136 ارب ڈالر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
