Urdu Conclave 2026

Kashmir’s Chillai-Kalan: کشمیر وادی میں ’چلّئی کلاں‘ کی دستک، کڑاکے کی سردی اور بھاری برفباری، 29 جنوری تک راحت کے آثار نہیں

شدید سردی کے باوجود چلّئی کلاں سیاحوں کے لیے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ تازہ برفباری کے بعد گلمرگ، سونمرگ اور پہلگام جیسے مقامات حسین ترین نظاروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ اسکیئنگ، برفانی کھیل اور سفید مناظر دیکھنے کے شوقین سیاح بڑی تعداد میں کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ ہوٹل مالکان اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کو امید ہے کہ کرسمس اور نئے سال کے موقع پر سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا۔

سری نگر: کشمیر وادی میں شدید سردی کا سب سے سخت مرحلہ، جسے مقامی زبان میں ’چلّئی کلاں‘ کہا جاتا ہے، ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ 21 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والا یہ 40 روزہ دور 29 جنوری 2026 تک جاری رہے گا، جس کے دوران درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے کئی درجے نیچے چلا جاتا ہے اور بھاری برفباری معمول بن جاتی ہے۔ چلّئی کلاں کے آغاز کے ساتھ ہی وادی کے بالائی علاقوں سے لے کر نشیبی حصوں تک برف کی سفید چادر بچھ گئی ہے۔

چلّئی کلاں کیا ہے؟

چلّئی کلاں فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں ’بڑی سردی‘۔ یہ سال کا وہ دور ہوتا ہے جب کشمیر میں سردی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ اس دوران مسلسل برفباری، یخ بستہ ہوائیں اور منفی درجۂ حرارت معمول کی بات بن جاتی ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قدرتی آبی ذخائر میں برف کی شکل میں پانی محفوظ ہوتا ہے، جو بعد میں موسم گرما میں ندیوں اور جھیلوں کو زندگی بخشتا ہے۔

ندیوں سے نلوں تک پانی منجمد

چلّئی کلاں کے دوران سردی کا اثر اس قدر شدید ہوتا ہے کہ ندیوں، چشموں اور جھیلوں کا پانی جم جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں گھروں کے نلوں اور پانی کی پائپ لائنوں میں بھی پانی برف بن جاتا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کھیت، درخت، پہاڑ اور سڑکیں ہر طرف برف سے ڈھک جاتی ہیں، جبکہ کئی دیہی علاقوں میں آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو جاتی ہے۔

عام زندگی بری طرح متاثر

شدید برفباری کے باعث شاہراہیں بند ہو جاتی ہیں، تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کیے جاتے ہیں اور بجلی و پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ سردی سے بچاؤ کے لیے لوگ روایتی کشمیری لباس ’فیرن‘ کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ گھروں میں کانگڑی اور ہیٹر جلانا معمول بن جاتا ہے۔ انتظامیہ نے حساس علاقوں میں برف ہٹانے والی مشینیں تعینات کر دی ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

چلّئی کلاں کے بعد بھی سردی باقی

چلّئی کلاں کے اختتام کے بعد بھی سردی فوراً ختم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد 20 دن کا دور ’چلّئی خُرد‘ (چھوٹی سردی) اور پھر 10 دن کا ’چلّئی بچہ‘ آتا ہے۔ فروری کے آخری عشرے میں اگرچہ سورج کی ہلکی تپش محسوس ہونے لگتی ہے، لیکن سردی کا اثر مکمل طور پر مارچ کے آغاز میں ہی کم ہوتا ہے۔

سیاحت کے لیے سنہری موقع

شدید سردی کے باوجود چلّئی کلاں سیاحوں کے لیے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ تازہ برفباری کے بعد گلمرگ، سونمرگ اور پہلگام جیسے مقامات حسین ترین نظاروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ اسکیئنگ، برفانی کھیل اور سفید مناظر دیکھنے کے شوقین سیاح بڑی تعداد میں کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ ہوٹل مالکان اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کو امید ہے کہ کرسمس اور نئے سال کے موقع پر سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا۔

انتظامیہ کی اپیل

انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ محکموں سے رابطہ کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read