الہ آباد ہائی کورٹ نے شواٹس کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی بقایا تنخواہوں کے معاملے میں ریاستی حکومت کو سخت ہدایات دی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ چار رکنی جانچ کمیٹی جن 44 ملازمین کی تقرری کو قانونی قرار دے چکی ہے، ان کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ان 44 ملازمین میں 33 تدریسی اور 11 غیر تدریسی عملہ شامل ہے۔
ایک سال سے زیادہ عرصے سے نہیں ملی تنخواہ
جسٹس سدھارتھ نندن نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تنخواہوں کی ادائیگی میں مزید تاخیر آئین کے آرٹیکل 21، یعنی زندگی کے حق، اور آرٹیکل 23، یعنی استحصال کے خلاف حق، کی براہ راست خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے معروف فیصلے ’پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹس بنام یونین آف انڈیا‘ کا بھی حوالہ دیا۔
12 اکتوبر تک جاری ہوگی بقایا تنخواہ
سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اشوک مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ ادارہ 3 دن کے اندر ان 44 قانونی طور پر مقرر ملازمین کا نظرثانی شدہ تنخواہ بل پیش کر دے گا۔اس کی بنیاد پر 12 اکتوبر تک تمام اہل ملازمین کی بقایا تنخواہ لازماً جاری کر دی جائے گی اور اس سلسلے میں ضروری احکامات بھی جاری کیے جائیں گے۔ اس پر عدالت نے ہدایت دی کہ اگلی مقررہ تاریخ پر اس سلسلے میں تعمیلی حلف نامہ پیش کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو متعلقہ افسر کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔
تنخواہ روکنے کی اب کوئی قانونی بنیاد نہیں
عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل وی کے سنگھ اور وکلا ریتودھوج پرتاپ ساہی اور امیت نیگی نے ضمنی حلف نامہ داخل کیا۔ اس میں ریاستی حکومت کی 22 جولائی 2026 کی جانچ رپورٹ بھی شامل تھی۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جانچ کمیٹی نے ان ملازمین کی تقرریوں کو درست پایا ہے۔ اس کے بعد ان کی تنخواہ روکنے کی کوئی قانونی بنیاد باقی نہیں رہتی۔
دیگر ملازمین کی تقرریوں کی بھی جلد جانچ کی ہدایت
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ جن ملازمین کی تقرریوں میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں یا جن کی جانچ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے، ان کے معاملے میں بھی جلد از جلد جانچ رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے کہا کہ رپورٹ کی بنیاد پر مجاز افسر ضابطے کے مطابق فیصلہ کرے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 12 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



