Bharat Express DD Free Dish

Dynastic politics threat to Indian democracy: ’’نہرو-گاندھی خاندان نے سیاست میں قیادت کو خاندانی حق بنا دیا‘‘، خاندانی سیاست پر ششی تھرور کےتیور سخت، جانئے کس کس کا لیا نام؟

ششی تھرور نے خاندانی سیاست کو جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت ہے کہ بھارت میرٹ پر مبنی قیادت کی طرف بڑھے۔ ششی تھرور نے یہ تبصرہ اپنے مضمون “Indian Politics Are a Family Business” میں کیا جو پروجیکٹ سنڈی کیٹ (Project Syndicate) ویب پورٹل پر شائع ہوا۔

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھارت میں خاندانی یا موروثی سیاست پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اہلیت (Merit) اور صلاحیت پر مبنی قیادت کی طرف آگے بڑھے۔ ششی تھرور نے یہ تبصرہ اپنے مضمون “Indian Politics Are a Family Business” میں کیا جو پروجیکٹ سنڈی کیٹ (Project Syndicate) ویب پورٹل پر شائع ہوا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کو ’’خاندانی سیاست کے بجائے میرٹ کی بنیاد پر قیادت‘‘ اپنانی چاہیے۔ یہ بیان بظاہر کانگریس ہائی کمان اور انڈیا بلاک کے حلیفوں سماجوادی پارٹی (SP)، راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور شیوسینا (یوبی ٹی) پر ایک بالواسطہ تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایک خاندان دہائیوں سے سیاست پر غالب رہا

ششی تھرور نے لکھا: ’’دہائیوں سے ایک ہی خاندان بھارتی سیاست پر چھایا ہوا ہے۔ نہرو۔گاندھی خاندان نے یہ تصور مضبوط کیا ہے کہ سیاسی قیادت ایک پیدائشی حق ہو سکتی ہے جس میں جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا شامل ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ خاندان بھارت کی آزادی کی جدوجہد سے وابستہ رہا ہے، مگر اس کا اثر یہ ہوا کہ سیاست میں خاندانی وراثت کو قیادت کا معیار سمجھا جانے لگا۔

دیگر جماعتوں میں بھی خاندانی سیاست

تھرور نے صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کو بھی خاندانی سیاست کے جال میں جکڑا ہوا بتایا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ: شیوسینا (یوبی ٹی) کے بانی بال ٹھاکرے کے بعد قیادت ان کے بیٹے اُدھو ٹھاکرے کو ملی اور اب ان کا بیٹا آدتیہ ٹھاکرے اگلے وارث کے طور پر سامنے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو کے بعد ان کے بیٹے اکھلیش یادو پارٹی صدر بن گئے۔ بیجو پٹنائک کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے نوین پٹنائک نے سیاست سنبھالی اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اڑیسہ کے وزیراعلیٰ رہے۔ تمل ناڈو میں ایم کروناندھی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ایم کے اسٹالن وزیراعلیٰ ہیں اور ان کے پوتے کو جانشین کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں عبداللہ خاندان اور مفتی خاندان تین نسلوں سے سیاست میں غالب ہیں۔ لوک جن شکتی پارٹی میں رام ولاس پاسوان کے بعد ان کے بیٹے چراغ پاسوان نے قیادت سنبھالی۔

قیادت وراثت سے طے ہو تو جمہوریت کمزور ہوگی

ششی تھرور نے کہا کہ خاندانی سیاست دانوں کو مالی، تنظیمی اور انتخابی طور پر غیر معمولی برتری حاصل ہوتی ہے، کیونکہ ان کے پاس سرمایہ، عطیہ دہندگان کا نیٹ ورک، پارٹی کارکنان اور اثر و رسوخ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ پیدائشی حق کا یہ احساس اتنا طاقتور ہے کہ ناکامیوں کے باوجود ایسے لوگ قیادت پر قابض رہتے ہیں۔ جب سیاسی طاقت قابلیت یا عوامی وابستگی کے بجائے نسب سے طے ہو، تو حکمرانی کا معیار گر جاتا ہے۔‘‘ تھرور کے مطابق خاندانی سیاست جمہوریت کے معیار کو نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ یہ سیاسی میدان کو چند خاندانوں تک محدود کر دیتی ہے۔

بھارت کو میرٹوکریسی کی طرف جانا ہوگا

تھرور نے زور دیا کہ اب وقت ہے کہ بھارت خاندانی سیاست کے بجائے میرٹوکریسی (استحقاقی نظام حکومت یا قابلیت کی بنا پر حکمرانی) اپنائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات کو لازمی بنایا جائے، مدت کی حد طے کی جائے اور عوام کو اس بات کی تعلیم دی جائے کہ وہ اہلیت کی بنیاد پر قیادت منتخب کریں۔ ’’جب تک سیاست خاندانی کاروبار بنی رہے گی، تب تک جمہوریت کا اصل مقصد ’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے‘ مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے گا۔‘‘

بی جے پی کا طنزیہ ردعمل

بی جے پی نے اس موقع پر کانگریس اور بہار کی مہاگٹھ بندھن جماعتوں پر طنز کیا۔ پارٹی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے ایکس پر ششی تھرور کے مضمون کو سراہتے ہوئے لکھا: ’’ڈاکٹر تھرور نے بھارت کی خاندانی سیاست پر بڑی بصیرت سے روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے براہ راست راہل گاندھی اور تیجسوی یادو جیسے ’نیپو کڈز‘ پر نشانہ سادھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نامدار کانگریس والے، کامدار چائے والے (نریندر مودی) سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ششی تھرور کو اس طرح کھل کر بولنے پر اپنی پارٹی میں نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں، کیونکہ وہ پہلے بھی راہل گاندھی پر ’’آپریشن سندور‘‘ کے حوالے سے تنقید کر چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read