Bharat Express DD Free Dish

SC on fake encounters in Assam case: آسام میں 171 فرضی انکاؤنٹر ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا سپریم کورٹ نے دیا حکم، ہمنتا حکومت تک پہنچ سکتی ہے آنچ

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر یہ الزام بہت سنگین ہے۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری حکام کی جانب سے متاثرین پر ضرورت سے زیادہ اور غیر قانونی طاقت کے استعمال کو درست نہیں سمجھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ آسام میں 171 فرضی انکاؤنٹر ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم ایڈووکیٹ عارف یاسین جواددار کی درخواست پر دیا ہے۔ عارف یاسین نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں عدالت نے کیس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر یہ الزام بہت سنگین ہے۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری حکام کی جانب سے متاثرین پر ضرورت سے زیادہ اور غیر قانونی طاقت کے استعمال کو درست نہیں سمجھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے آسام میں فرضی انکاونٹرزکے الزامات کی تحقیقات کے لیے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کو ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ آسام پولیس کی جانب سے 2010 سے 2022 کے درمیان مبینہ طور پر 80 سے زائد  فرضی انکاونٹر کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے دائر ایک عرضی کے جواب میں آیا۔ عدالت نے این ایچ آر سی سے کہا کہ وہ ان واقعات کی مکمل چھان بین کرے اور متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔

آسام میں فرضی انکاونٹر کا معاملہ کافی عرصے سے تنازع کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں پولیس پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردی یا جرائم کے شبہ میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر ہلاک کرتی ہے۔ عرضی گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ ان انکاونٹرزمیں زیادہ تر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نشانہ بنے، جن میں اقلیتی برادریاں اور غریب خاندان شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔

این ایچ آر سی کو چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونی چاہئیں، اور متاثرین کے اہل خانہ کو سماعت کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔ اس فیصلے سے آسام میں پولیس کے طرز عمل پر سوالات اٹھے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس ۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read