Bharat Express DD Free Dish

Saugata Roy SRFTI Controversy: ایس آر ایف ٹی آئی جھڑپ سے سنتوں کے مبینہ توہین تک، ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے کے تیکھے تیور

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی جھڑپ، ایس آئی آر تنازع، 30 ستمبر کی انڈیا بلاک میٹنگ اور کنال گھوش پر مبینہ حملے سمیت کئی معاملات پر ردعمل ظاہر کیا۔

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) میں ہوئی جھڑپ پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعے کی مذمت ہونی چاہیے۔ سوگت رائے کے مطابق، مرکزی حکومت کے ماتحت آنے والے اس معروف ادارے میں باہر سے لوگوں کو بلا کر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں اے بی وی پی سے وابستہ لوگوں کا کردار تھا۔ تاہم، اے بی وی پی پہلے ہی اس واقعے میں کسی بھی طرح کی شمولیت سے انکار کر چکی ہے۔ اس پر سوگت رائے نے کہا کہ انہیں پورے معاملے کی تفصیلی معلومات نہیں ہیں، لیکن جس تنظیم کا پروگرام ادارے کے آڈیٹوریم میں جاری تھا، اس کے بی جے پی سے تعلقات بتائے جا رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسی تنظیم کی جانب سے باہر سے لوگوں کو بلایا گیا تھا۔

ایس آئی آر کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے سوال

ایس آئی آر کے معاملے پر بھی سوگت رائے نے اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی حمایت میں بی جے پی لیڈروں کے سامنے آنے پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مسلسل الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہی ہے۔ سوگت رائے نے کہا کہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے معاملے میں الیکشن کمیشن کے کردار اور اس کے استعمال کو لے کر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن اس معاملے پر اپنے موقف پر قائم ہے اور الیکشن کمیشن کے کردار کو لے کر آئندہ بھی سوال اٹھاتی رہے گی۔

30 ستمبر کی انڈیا بلاک میٹنگ میں ممتا اور ابھیشیک ہوں گے شامل

30 ستمبر کو مجوزہ انڈیا بلاک کی میٹنگ کے بارے میں سوگت رائے نے بتایا کہ اس کی پہل سی پی ایم کے سیکریٹری کی جانب سے ہوئی تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بات کی تھی۔ اس کے بعد ممتا بنرجی نے راہل گاندھی سے بات کی اور راہل گاندھی کی اپیل پر میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سوگت رائے کے مطابق، اس میٹنگ میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی دونوں شرکت کریں گے۔

سنتوں کی توہین پر بولے، ’تنقید کرنے پر جیل بھیجنا درست نہیں‘

نیتاجی انڈور اسٹیڈیم میں منعقد گیتا پاٹھ پروگرام کے دوران بی جے پی لیڈر سوویندو ادھیکاری کے بیان پر بھی سوگت رائے نے ردعمل ظاہر کیا۔ سوویندو ادھیکاری نے کہا تھا کہ بنگال میں سنتوں کی توہین کرنے پر جیل جانا پڑ سکتا ہے۔سوگت رائے نے کہا کہ کسی سنت کی توہین نہیں کی جانی چاہیے اور وہ اس بات سے متفق ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ کسی سنت کے بارے میں گفتگو کرنے یا ان پر تنقید کرنے پر کسی شخص کو جیل بھیجنا جمہوری نظام کے لحاظ سے مناسب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تنقید روکنے کے لیے جیل جیسے اقدامات کا استعمال کرتی ہے تو اس سے جمہوریت سے متعلق سوالات پیدا ہوں گے۔

سوویندو ادھیکاری کی موت کی خواہش پر بھی اختلاف

ٹی ایم سی لیڈر ہمایوں کبیر کے اس بیان پر بھی سوگت رائے نے اختلاف ظاہر کیا، جس میں انہوں نے سوویندو ادھیکاری کی موت کی خواہش کی تھی۔ سوگت رائے نے کہا کہ کسی بھی شخص کی موت کی خواہش کرنا درست نہیں ہے، چاہے وہ سوویندو ادھیکاری ہوں یا کوئی اور۔انہوں نے کہا کہ ہمایوں کبیر جس صورتحال اور مبینہ زیادتی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، اس سے وہ ناراض یا مایوس ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس طرح کے بیان کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کنال گھوش پر مبینہ حملے کو لے کر پولیس پر سوال

ٹی ایم سی لیڈر کنال گھوش پر ہوئے مبینہ حملے کے معاملے پر بھی سوگت رائے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اس معاملے میں کارروائی کرنی چاہیے۔ان کا الزام ہے کہ پولیس اس معاملے میں کچھ نہیں کر رہی اور یہ کسی کی آواز دبانے کی کوشش جیسا ہے۔ سوگت رائے نے کہا کہ ایسی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق، واقعے کی تحقیقات کرنا اور ضروری کارروائی کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، اس لیے پولیس کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مناسب قدم اٹھانا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read