نئی دہلی: دارالحکومت نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 24 مارچ 2026 کو 16واں SATCAB سمپوزیم منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں نشریاتی اور ڈیجیٹل میڈیا کے بدلتے رجحانات پر تفصیلی گفتگو کی جا رہی ہے۔ اس سال سمپوزیم کا موضوع “Reconstructing News Discourse with New Models for Broadcast and Digital Media” رکھا گیا ہے، جو میڈیا کے نئے ڈھانچوں اور مستقبل کی سمت پر مرکوز ہے۔ یہ اہم تقریب میڈیا ماہرین، پالیسی سازوں اور صحافیوں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، جہاں وہ میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اہم مقررین کی شرکت
سمپوزیم میں بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر اور ایڈیٹر ان چیف اپیندر رائے بطور مہمان خصوصی شریک ہیں۔ وہ نشریاتی اور ڈیجیٹل میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں اور اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کس طرح میڈیا کے ڈھانچے کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس موقع پر میڈیا کے مستقبل، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے اثرات اور خبروں کی پیشکش کے جدید طریقوں پر بھی گفتگو کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے سمپوزیم میڈیا انڈسٹری میں جدت اور بہتری کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پروگرام کے دوران سی ایم ڈی اپیندر رائے نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ بھارت ایکسپریس لانچ کرنے جا رہے تھے، اس وقت ایک ریاست میں انتخابات ہو رہے تھے۔ اس دوران ایک وزیر اعلیٰ نے ایک چینل کو 200 کروڑ روپے دیے تھے۔ انہوں نے چینل کا نام لیے بغیر یہ بات بیان کی۔ سی ایم ڈی نے بتایا کہ اس وقت ہم اس بات پر غور کر رہے تھے کہ چینل کو پائیدار (سَسٹین ایبل) کیسے بنایا جائے؟ اسی دوران کسی نے کہا کہ اگر چینل بڑا بن جائے گا تو اسے پائیدار بنانے کی فکر خود بخود ختم ہو جائے گی۔

پروگرام کے دوران اپیندر رائے نے یہ بھی کہا کہ آج کے دور میں ٹیلی ویژن چینل چلانا اتنا مشکل کیوں ہو گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے جب کوئی میچ ہوتا تھا تو لوگ ریفری کا بھی احترام کرتے تھے اور اس کے کردار کو اہمیت دیتے تھے، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ آج ریفری کی جگہ دو لوگ کھڑے ہو کر زور زور سے چیختے ہیں اور یہ مقابلہ ہوتا ہے کہ کون زیادہ اونچی آواز میں بول سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ دائیں یا بائیں نظریے کا جھنڈا اٹھا لیں تو لوگ آپ کو قبول کر لیتے ہیں، لیکن اگر آپ متوازن اور غیر جانبدار خبریں پیش کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ صحافت میں ہمیں سکھایا جاتا ہے، تو آپ کو ریفری کی طرح نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یعنی اگر آپ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے درست راستہ دکھانا چاہتے ہیں، جیسے گیتا کی تعلیمات کی طرف لے جانا، تو لوگ آپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسا ذہنی ماحول بنا دیا گیا ہے۔ اپیندر رائے نے مزید کہا کہ گیتا دنیا کی عظیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے، لیکن آج کے دور میں اگر کوئی صحافی توازن اور درست سمت دکھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے نیٹ ورک میں انہوں نے اس رجحان کو بڑی حد تک قابو میں رکھا ہے، مگر اس کے نتیجے میں انہیں مالی اور پیشہ ورانہ نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

