نئی دہلی: شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے راؤت نے راجیہ سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل اور طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کے احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی اور طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ “لاپتہ وزیرِ داخلہ” کے عنوان سے ایک فلم بنانے والے ہیں۔ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے خواب یا تو ختم ہو گئے ہیں یا انہیں ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 20 جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور ان پر پیلٹ گن کا بھی استعمال کیا گیا، جس سے ان کے مستقبل کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں موجود کئی رہنماؤں کی سیاسی زندگی کا آغاز طلبہ تحریکوں سے ہوا تھا، اس کے باوجود کسی نے بھی احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان جا کر ان سے ہمدردی کا اظہار یا ان کے مسائل سننے کی کوشش نہیں کی۔ راؤت نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثر ایمرجنسی کا ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایمرجنسی سے پہلے بھی طلبہ تحریکوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، پھر موجودہ حکومت طلبہ کے احتجاج سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟
سنجے راؤت نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ ہر معاملے پر بیان دیتے ہیں اور ہر کامیابی کا کریڈٹ لیتے ہیں، مگر اتنی بڑی تحریک، طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کے باوجود ان کا ایک بھی بیان سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا، “میں تو ‘لاپتہ وزیرِ داخلہ’ کے نام سے فلم بنانے والا ہوں۔ آخر وزیرِ داخلہ کہاں ہیں؟”
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں موجود بدعنوانی ختم کی جائے، لیکن حکومت ان کے مطالبات سننے کے بجائے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔پیپر لیک کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ سب سے زیادہ گرفتاریاں مہاراشٹر میں ہوئیں اور ان کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں کئی افراد بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ (NEET) صرف ایک امتحان نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا امتحان ہے، اس لیے اگر حکومت کی ناکامی سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی حکومت کو قبول کرنی چاہیے۔
اینٹی پیپر لیک بل پر اعتراض کرتے ہوئے راؤت نے کہا کہ نئے قانون میں بنیادی طور پر کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ ان کے مطابق صرف سزا کو ایک سال سے بڑھا کر دس سال اور جرمانے کو ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر دس کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، لیکن اس سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوالیہ پرچے اوپر سے نیچے تک مختلف سطحوں پر لیک ہوتے ہیں اور صرف سخت سزا دینے سے یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا تعلیمی نظام کبھی دنیا میں اپنی ساکھ رکھتا تھا، لیکن اب اس کی شفافیت متاثر ہوئی ہے اور حکومت کو اس کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
