بھارتیہ جنتا پارٹی کے فائر برانڈ لیڈر اور میرٹھ کی سردھنا اسمبلی سیٹ سے سابق ایم ایل اے سنگیت سوم کو جان سے مارنے کی دھمکی دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہیں فون کال کے ذریعے بم سے اُڑانے کی دھمکی دی گئی، جس کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ پولیس نے فوری طور پر معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے اور سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز سنگیت سوم کے موبائل فون پر ایک نامعلوم شخص کی کال موصول ہوئی، جس میں کال کرنے والے نے بنگلہ زبان میں بات کرتے ہوئے انہیں بم سے اُڑانے کی دھمکی دی۔ دھمکی ملتے ہی سنگیت سوم نے فوراً مقامی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس اور انتظامی افسران فوری طور پر ان کے پاس پہنچے اور تفصیلات حاصل کیں۔
سنگیت سوم نے پولیس کو دھمکی آمیز کال کرنے والے نمبر کی مکمل تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔ بم دھماکے کی دھمکی کے معاملے میں ان کے ذاتی سیکریٹری چندرشیکھر کی جانب سے متعلقہ تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی گئی ہے۔ پولیس نے کال ڈیٹیل ریکارڈ حاصل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دھمکی کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کے مقصد کیا ہیں۔
سنگیت سوم کا شمار بی جے پی کے سخت گیر اور فائر برانڈ ہندو لیڈروں میں ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہ ایک بار پھر تنازع کا مرکز بنے تھے، جب انہوں نے اداکار شاہ رخ خان کو ’غدار‘ قرار دیا تھا۔ سنگیت سوم کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں مسلم شدت پسند ہندو اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ بھارت میں کچھ لوگ ایسے عناصر سے وابستہ کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے دے کر آئی پی ایل میں کھیلنے کی دعوت دے رہے ہیں، جو ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔
اس بیان کے بعد سماج وادی پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ مظفر نگر میں سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر ضیاء خان نے سنگیت سوم کو ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیا، جس کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔ اس بیان پر کرنی سینا کے کارکنان مشتعل ہو گئے اور مظفر نگر میں سماج وادی پارٹی کے دفتر پر ہنگامہ بھی ہوا، جہاں ایک شخص نے ضیاء خان کے ساتھ ہاتھا پائی کی، جسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔ فی الحال پولیس دھمکی کے معاملے کی ہر پہلو سے جانچ کر رہی ہے اور سنگیت سوم کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


