نئی دہلی: روحانی رہنما سَدگرو نے ہمالیہ کے تحفظ اور اس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بھارت، چین، پاکستان، نیپال اور بھوٹان کے درمیان مشترکہ تعاون کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے ان پانچ ممالک پر مشتمل ایک ’ہمالائن بورڈ‘ قائم کرنے کی بات کہی ہے، جس کے ذریعے خطے سے متعلق اہم معاملات پر باقاعدگی سے مشاورت اور باہمی تال میل کو فروغ دیا جاسکے۔ سَدگرو کے مطابق ہمالیہ کو صرف سیاسی سرحدوں کے دائرے میں دیکھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ایک مشترکہ قدرتی ورثہ ہے اور اس کا اثر کئی ممالک اور کروڑوں لوگوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔ ایسے میں اس کے تحفظ کے لیے متعلقہ ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
سیاسی سرحدوں سے بالاتر ہوکر دیکھنے کی ضرورت
سَدگرو نے کہا کہ پہاڑوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی علاقے کی سیاسی انتظامیہ کیا ہے یا وہاں کون سی زبان بولی جاتی ہے۔ ہمالیہ اپنی جگہ موجود ہے اور اس سے جڑے ماحولیاتی مسائل بھی سرحدوں کی پابندی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پانچوں ممالک کے لیے ہمالیہ کا انتظام کسی ایک مشترکہ ادارے کے ذریعے کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک ایسا نظام ضرور ہونا چاہیے، جس میں یہ ممالک باقاعدگی سے ایک دوسرے سے مشاورت کریں اور ہمالیہ سے متعلق معاملات پر بہتر تال میل قائم کریں۔
بھارت، چین، پاکستان، نیپال اور بھوٹان شامل ہوں
مجوزہ ’ہمالائن بورڈ‘ میں بھارت، چین، پاکستان، نیپال اور بھوٹان کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس بورڈ کا مقصد ہمالیہ سے متعلق اہم مسائل پر مشترکہ گفتگو، پالیسی سازی اور تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ سَدگرو کے مطابق ہمالیہ کا دائرۂ اثر صرف ان علاقوں تک محدود نہیں جہاں اس کے پہاڑی سلسلے موجود ہیں۔ یہ پورے خطے کے ماحول، آبی وسائل اور کروڑوں افراد کی زندگی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے ہمالیہ کے تحفظ کو کسی ایک ملک کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے مشترکہ کوششوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
’ہمالیہ شاندار بھی ہے اور انتہائی نازک بھی‘
سَدگرو نے ہمالیہ کو دنیا کی سب سے شاندار اور عظیم قدرتی ساختوں میں سے ایک قرار دیا، لیکن ساتھ ہی اس کی حساسیت پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمالیہ جتنا خوبصورت اور وسیع ہے، اتنا ہی نازک بھی ہے۔ ان کے مطابق ہمالیہ میں ہونے والی سرگرمیوں کے اثرات بہت دور تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس خطے سے متعلق ممالک اپنی پالیسیوں اور اقدامات میں باہمی تال میل پیدا کریں تاکہ قدرتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کو کم کیا جاسکے۔
مشترکہ کوششوں سے ہمالیہ کے تحفظ پر زور
سَدگرو کی تجویز کا بنیادی مقصد ہمالیہ کے تحفظ کے لیے مختلف ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر ملک اپنی سطح پر اقدامات ضرور کرے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ باہمی رابطہ اور مسلسل مشاورت بھی ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہمالیہ کو سیاسی اختلافات اور تنازعات سے الگ رکھتے ہوئے اسے ایک مشترکہ قدرتی اور ماحولیاتی ورثے کے طور پر دیکھنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق پہاڑ سیاسی سرحدوں کو نہیں پہچانتے، اس لیے ہمالیہ کے تحفظ کے لیے ممالک کو بھی سرحدوں سے بالاتر ہوکر تعاون کرنا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
