Bharat Express DD Free Dish

Mohan Bhagwat on Pahalgam attack: پہلگام حملے پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان، ’’حکمراں کا فرض ہے کہ وہ اپنی رعایا کی حفاظت کرے‘‘

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کتاب ‘دی ہندو منیفیسٹو’ کی ریلیز کے دوران پہلگام حملے پر بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی رعایا کی حفاظت کرنا حکمران کا فرض ہے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہفتہ کو نئی دہلی کے وزیر اعظم میوزیم میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سینئر رکن سوامی وگیانانند کی طرف سے لکھی گئی کتاب ‘دی ہندو مینی فیسٹو’ کی تقریب رونمائی میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کتاب میں بیان کیے گئے خیالات کو موجودہ دور کے لیے اہم اور متعلقہ قرار دیا۔

’دی ہندو مینی فیسٹو‘ قدیم ہندو متون جیسے وید، رامائن، مہابھارت، معاشیات اور شُکرنیتی(یہ ایک قدیم کتاب ہے جو بادشاہوں اور حکمرانوں کے لیے پالیسی، انتظامیہ اور حکمت عملی کے اصولوں سے متعلق ہے) کی حکمت پر مبنی ہے۔ یہ کتاب قومی اور عالمی سطح پر مذہب پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ مثبت تبدیلی کا خاکہ پیش کرتی ہے۔

عدم تشدد ہمارا مذہب ہے لیکن ظالموں کے لیے سبق ضروری

تقریب میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا، “ہماری ثقافت میں عدم تشدد کو سب سے اوپر سمجھا جاتا ہے۔ ہماری فطرت عدم تشدد ہے، اور ہم دوسروں کو عدم تشدد کے راستے پر چلنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ ہماری وجہ سے تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو سدھرنے کو تیار نہیں ہیں۔”

راون کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں اور نہ ہی ہماری کسی سے کوئی دشمنی ہے، راون شیو کا پرستار تھا، ویدوں کا علم رکھتا تھا اور حکمرانی میں بھی ماہر تھا، اس میں اچھا انسان ہونے کی تمام خوبیاں موجود تھیں، لیکن اس کی فکر اور طرز عمل میں برائی کی جڑیں بہت گہری تھیں اور اسے سدھارا نہیں جاسکتا تھا۔ایسی صورت میں اس کی بھلائی کے لیے بھگوان نے اسے تباہ وبرباد کردیا۔ یہ تباہی تشدد نہیں، بلکہ عدم تشدد کی ہی ایک شکل تھی، کیونکہ یہ اس کے دوبارہ جنم کے لیے ضروری تھا۔

موہن بھاگوت نے مزید کہا، “عدم تشدد ہمارا مذہب ہے، لیکن دہشت گردوں اور فسادیوں کو سبق سکھانا بھی ہمارا فرض ہے۔ کچھ لوگوں کو تھوڑی سی سزا سے، کسی کو سخت سزا سے اور کچھ کو بغیر سزا کے سدھار کر اپنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جن کی اصلاح ممکن نہیں،ان کی بھلائی کے لیے، انہیں دوسرا جسم اور ذہن لینے کے لیے خدا کے پاس بھیجنا پڑتا ہے، یہی توازن کا راستہ ہے۔”

حکمراں کا فرض ہے کہ وہ اپنی رعایا کی حفاظت کرے

انہوں نے زور دے کر کہا، “ہم کبھی اپنے پڑوسیوں کی توہین یا نقصان نہیں کرتے، لیکن اگر کوئی برائی پر اُتر آئے، تو حکمراں کا فرض ہے کہ وہ اپنی رعایا کی حفاظت کرے۔ یہی اُس کا دھرم ہے۔”

گیتا کا ذکر کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا، “گیتا عدم تشدد اور جنگ دونوں کا اُپدیش ہے۔ ارجن کو اس لیے لڑنا پڑا کیونکہ اس کے سامنے موجود لوگ اصلاح کے قابل نہیں تھے۔ انہیں ایک نئی زندگی اور نئی سوچ دینے کے لیے جنگ ضروری تھی۔ ہماری ثقافت میں یہ توازن ہے، جسے ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔”

کتاب ‘دی ہندو مینی فیسٹو’ تہذیب کے احیاء کے روڈ میپ کے طور پر تیار کی گئی ہے۔ اس میں آٹھ اہم اصولوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو یہ ہیں: سب کے لیے خوشحالی، مضبوط قومی سلامتی، معیاری تعلیم، جوابدہ جمہوریت، خواتین کا احترام، سماجی ہم آہنگی، اپنے ثقافتی ورثے پر فخر، اور فطرت کا احترام۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read