Bharat Express DD Free Dish

NEET UG 2024: نیٹ یوجی امتحان سے متعلق سپریم کورٹ میں نظرثانی سے متعلق درخواست دائر کی گئی، عرضی گزار نے عدالت سے کیا یہ مطالبہ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں این ٹی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں جن خدشات کو اجاگر کیا ہے ان کو دور کیا جائے۔

نیٹ یوجی 2024 کے امتحان کو لے کر سپریم کورٹ میں نظرثانی سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے۔ کاجل کماری کی طرف سے دائر نظرثانی کی درخواست میں، نیٹ یوجی 2024 کو نئے سرے سے منعقد کرنے کے فیصلے کو مسترد کرنے کے حکم پر نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں این ٹی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں جن خدشات کو اجاگر کیا ہے ان کو دور کیا جائے۔ ساتھ ہی کیس میں تشکیل دی گئی سات رکنی کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ اپنی سفارشات پیش کرتے وقت عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو ذہن میں رکھیں۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں تقریباً 40 درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

کمیٹی 30 ستمبر کو رپورٹ پیش کرے گی۔

درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ چونکہ کمیٹی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے، کمیٹی امتحانی نظام میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر 30 ستمبر تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے این ٹی اے کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں جن خدشات کو اجاگر کیا ہے ان کا ازالہ کیا جائے اور سات رکنی کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی سفارشات پیش کرتے وقت ان مسائل کو ذہن میں رکھیں۔

یہ امتحان 5 مئی کو منعقد ہوا تھا۔

میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، آیوش اور دیگر متعلقہ کورسز میں داخلے کے لیے 5 مئی کو منعقدہ نیٹ یوجی 2024 میں 23 لاکھ سے زیادہ طلبہ نے شرکت کی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read