Bharat Express DD Free Dish

Bharat Express Conclave: ریئل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر سے ہی ممکن ہوگا ‘وکست بھارت 2047’ کا خواب: منوج گوڑنے بھارت ایکسپریس کانکلیو میں کہی یہ بات

منوج گوڑکے مطابق اب حکومت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا وژن ایک سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور آئندہ دس برسوں میں اس شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں عمارتوں کے ڈیزائن بدلیں گے،

نئی دہلی میں منعقدہ بھارت ایکسپریس میگا کانکلیو میں گاؤڑ گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر منوج گوڑ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بھارت بنانے کا جو ہدف دیا ہے وہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی پہچان جدید دفاتر، بلند و بالا عمارتیں، بہتر سڑکیں اور اسمارٹ و خود کفیل شہر ہوتے ہیں، اور ان سب کے پیچھے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔

کانکلیو کے دوران انہوں نے بتایا کہ گزشتہ بیس برسوں میں، خاص طور پر پچھلے دس برسوں کے دوران، رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ کووڈ کے بعد یہ تبدیلی مزید تیز ہو گئی۔ لوگوں کی سوچ بدلی، ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا، سرکاری پالیسیوں میں اصلاحات ہوئیں، بلڈنگ بائی لاز میں تبدیلی آئی اور آن لائن منظوری کے نظام کے ساتھ ماحولیات سے متعلق کلیئرنس کے طریقہ کار میں بھی بہتری آئی۔

منوج گوڑکے مطابق اب حکومت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا وژن ایک سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور آئندہ دس برسوں میں اس شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں عمارتوں کے ڈیزائن بدلیں گے، سسٹین ایبلٹی پر زیادہ زور ہوگا، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھے گا اور اسپیس پلاننگ کا انداز بھی تبدیل ہوگا۔

پروگرام کے دوران میزبان مہر رنجن نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بہت سے مکانات تو بنے، لیکن گھروں کی حوالگی میں تاخیر، رجسٹری میں تاخیر اور نامکمل پروجیکٹس جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔ اس کے جواب میں منوج گاؤڑ نے کہا کہ یہ مسائل زیادہ تر 2016 سے پہلے دیکھنے کو ملتے تھے کیونکہ اس وقت رئیل اسٹیٹ سیکٹر باقاعدہ طور پر منظم نہیں تھا۔ کوئی بھی شخص ڈویلپر بن سکتا تھا اور واضح قوانین موجود نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (RERA) کے نفاذ کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب تقریباً 99 فیصد پروجیکٹس وقت پر مکمل ہو رہے ہیں کیونکہ ریگولیٹری ادارہ ان کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اب بغیر منظوری کے اشتہار دینا ممکن نہیں اور نہ ہی ریرا رجسٹریشن کے بغیر کوئی پروجیکٹ لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے معیار پر توجہ بڑھی ہے اور صرف سنجیدہ ڈویلپر ہی اس شعبے میں باقی رہ گئے ہیں۔

منوج گوڑ نے کہا کہ خریداروں کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ گھر خریدنے سے پہلے ریرا نمبر، ڈویلپر کا ریکارڈ اور اس کے سابقہ پروجیکٹس ضرور دیکھنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں جیسے مہاراشٹر، اتر پردیش، ہریانہ اور دہلی میں ریرا مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے اور وقت کے ساتھ یہ قانون مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

کووڈ کے بعد جائیداد کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وبا سے پہلے تقریباً چھ سے سات برس تک رئیل اسٹیٹ سیکٹر کمزور رہا اور قیمتیں حقیقی سطح پر نہیں تھیں۔ کووڈ کے بعد لوگوں کی ضروریات بدل گئیں، بڑے گھروں اور زیادہ جگہ کی مانگ بڑھ گئی۔ اس کے ساتھ تعمیراتی لاگت، جی ایس ٹی، ماحولیاتی قوانین اور مزدوری کی لاگت میں اضافہ بھی قیمتوں کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ بنا۔

انہوں نے کہا کہ آج 40 کروڑ روپے کے گھروں کی مانگ کم ہے، لیکن ڈیڑھ کروڑ سے تین کروڑ روپے کے گھروں کی طلب بہت زیادہ ہے۔ کئی پروجیکٹس لانچ کے پہلے دن ہی فروخت ہو گئے کیونکہ لوگ بہتر لوکیشن، اچھے ڈویلپر، جدید ڈیزائن اور بہتر سہولیات چاہتے ہیں۔

منوج گوڑ نے مزید کہا کہ آنے والے دس برسوں میں ایکسپریس ویز کے اطراف بڑے پیمانے پر ترقی ہوگی، لیکن صرف شہر پھیلانا حل نہیں ہے بلکہ عمودی ترقی یعنی Vertical Growth کو فروغ دینا ہوگا۔ جہاں میٹرو، سڑکیں، اسکول اور اسپتال جیسا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے وہاں بلند عمارتوں کی تعمیر ضروری ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ آج کی جدید عمارتوں میں پارکنگ پلان، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ، ویسٹ مینجمنٹ، گرین بلڈنگ اور سولر انرجی جیسی سہولیات شامل کی جا رہی ہیں۔ مستقبل میں پبلک ٹرانسپورٹ میں اضافہ ہوگا، میٹرو نیٹ ورک پھیلے گا اور ملٹی لیول ٹرانسپورٹ سسٹم بھی متعارف ہوگا۔

منوج گوڑ کے مطابق اس وقت بھارت کی تقریباً 25 سے 30 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے اور 2047 تک یہ شرح بڑھ کر 40 سے 45 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے آنے والے وقت میں جدید ٹیکنالوجی، منفرد سوچ اور سسٹین ایبل انفراسٹرکچر کے ذریعے شہری ترقی کو نئی سمت دینا ضروری ہوگا۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read