عصمت دری معاملے میں سزا یافتہ ڈیرہ سچا سودا چیف گرمیت رام رحیم سنگھ کو ایک بار پھر 40 دن کی پیرول پر سناریا جیل، روہتک سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ 2017 میں جنسی استحصال کیس میں سزا یافتہ ہونے کے بعد 14واں موقع ہے جب وہ جیل سے باہر آیا ہے۔
سرسا ڈیرے کے لیے روانگی
رام رحیم کو سخت سکیورٹی کے درمیان صبح سرسا ڈیرے کے لیے روانہ کیا گیا۔ ان کے ہمراہ ہنی پریت، چیئرمین دان سنگھ، ڈاکٹر آر کے نین اور شرن دیپ سنگھ موجود تھے۔ قافلہ دو گاڑیوں میں جیل سے نکلا۔
2025 میں تیسری بار جیل سے باہر
فروری 2025: 21 دن کی فرلو
اپریل 2025: 21 دن کی فرلو
اگست 2025: 40 دن کی پیرول
واضح رہے کہ فرلو کی مدت قیدی کی سزا میں شامل ہوتی ہے، جبکہ پیرول الگ شمار ہوتی ہے۔
خصوصی مواقع اور سوالات
اس بار کی پیرول کی مدت 15 اگست (یومِ آزادی اور رام رحیم کا یومِ پیدائش) اور رکشا بندھن جیسے تہواروں سے جڑی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سرسا ڈیرے میں بڑے پیمانے پر تقاریب کا انعقاد متوقع ہے۔
یہ مشاہدہ بھی کیا گیا ہے کہ رام رحیم کو عموماً انتخابات کے قریب یا سماجی و مذہبی مواقع پر جیل سے باہر آنے کی اجازت دی جاتی ہے، جس سے سیاسی وابستگیوں اور مفادات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
قانونی و سیاسی تشویش
قانونی طور پر پیرول قیدی کے جیل میں طرز عمل، نظم و ضبط، اور انسانی بنیادوں پر دی جاتی ہے، مگر رام رحیم کو مسلسل رعایت ملنے پر کئی قانونی ماہرین، انسانی حقوق تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ رام رحیم کے ڈیرے میں سرگرمیاں پھر سے تیز ہوگئی ہیں، اور سکیورٹی ایجنسیاں صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔
کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟
رام رحیم کی بار بار جیل سے رہائی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ اور کیا سیاسی فوائد کی خاطر مجرموں کو رعایت دی جا سکتی ہے؟ اس پر حکومت، عدلیہ اور سماج کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


