شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیترٹرسٹ کی میٹنگ میں چمپت رائے اورانل مشرا کے استعفیٰ پرتبادلہ خیال ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں کا استعفیٰ قبول بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں کے استعفیٰ کے بعد کچھ نام سرخیوں میں ہیں۔ حالانکہ پیر، 6 جولائی کوہونے والی میٹنگ میں اس کا فیصلہ نہیں ہوگا کہ ان دونوں کی جگہ کون آئے گا۔ ذرائع کے مطابق، رام جنم بھومی تیرتھ چھیترٹرسٹ کی آج ہونے والی میٹنگ میں رام مندرمیں چڑھاوا چوری کے حادثہ پرافسوس کا اظہارکیا جاسکتا ہے۔ میٹنگ میں آج نئے ٹرسٹ کے کسی نئے رکن کے نام کا اعلان ہونے کا امکان نہیں ہے۔ نئے اراکین کی تقرری کے لئے آئندہ ماہ ٹرسٹ کی خصوصی میٹنگ بلائی جائے گی، جس میں اس پرآخری فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔
اس سے پہلے ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ رام جنم بھومی تیرتھ چھیترٹرسٹ کے نئے مہامنتری کے لئے سوامی واسودیوانند سرسوتی کا نام سب سے مضبوط دعویدار کے طورپرابھرکرسامنے آیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ وہ چمپت رائے کا مقام لے سکتے ہیں۔ وشوہندو پریشد اورایودھیا کے دیگرسنت مہاتما بھی انہیں ہی اس عہدے کے لئے سب سے مناسب اورموزوں تسلیم کررہے ہیں۔ ٹرسٹ کے بیشتراراکین کے درمیان بھی ان کے نام پرعام رضامندی بننے کی بات سامنے آرہی ہے۔
سوامی واسودیوانند سرسوتی کو مل سکتی ہے بڑی ذمہ داری
حالانکہ سوامی واسودیوانند سرسوتی خود اس ذمہ داری کوقبول کرنے کے خواہاں نہیں بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، انہوں نے واضح طورپر مہامنتری (جنرل سکریٹری) بننے سے انکارکردیا ہے۔ ان کے قریبی بتاتے ہیں کہ ان کا ماننا ہے کہ حال کے تنازعہ اورٹرسٹ کی شبیہ کو ہوئے نقصان کے بعد وہ اس عہدے کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔
ٹرسٹ میں نئے اراکین کے نام آج نہیں ہوگا اعلان!
سوامی واسودیوانند سرسوتی کی مرضی کو دیکھتے ہوئے آج کی میٹنگ میں نئے مہامنتری کے نام کا اعلان ہونے کا امکان بے حد کم مانا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹسٹ کے بیشتر اراکین فی الحال اس فیصلے کو کچھ وقت کے لئے ٹالنے کے حق میں ہیں۔ امکان ہے کہ آئندہ مرحلے میں سوامی واسودیوا نند سرسوتی کو منانے کی کوشش کی جائے یا پھرکسی دیگر نام پررضامندی بننے کے بعد نئے مہا منتری کا اعلان کیاجائے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
