رام مندرمیں چڑھاوا کی مبینہ چوری کی تحقیقات کررہی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) اب مندرٹرسٹ کے ذریعہ کی گئی زمین کی خریداری کے سودوں کی بھی تفصیلی تحقیقات کرے گی۔ کم قیمت والی زمین کوزیادہ قیمت پرخریدے جانے کے الزامات کے بعد، ایس آئی ٹی نے ان زمین کی خریداری کے معاملات میں اپنی تحقیقات کوشامل کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، زمین کے کئی سودوں میں الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں مندرٹرسٹ نے سرکل ریٹ پرحکومت کی جانب سے حاصل کی گئی زمین سے کافی زیادہ قیمتوں پرخریدی۔ ان سودوں کے بارے میں طویل عرصے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
حال ہی میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اورسینئرلیڈرسنجے سنگھ نے 11 اراضی سودوں سے متعلقہ دستاویزایس آئی ٹی چیئرمین کوسونپے ہیں۔ ان دستاویزوں میں مبینہ طورپرزمین خرید میں بے ضابطگیوں اور قیمت کے تعین پرسوال اٹھائے گئے ہیں۔ جانچ ایجنسی اس پہلوکی بھی جانچ کررہی ہے کہ زیادہ زمین سودوں میں دوہی اشخاص کے گواہ کے طورپرباربارسامنے آنے کے پیچھے کیا وجہ تھی۔
چمپت رائے نے زیادہ دباو کے بعد دیا ہے استعفیٰ
رام مندرآندولن سے متعلق سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی تک اہم رول نبھانے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے پربھی سوالوں کا دباو بڑھتا جا رہا ہے۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ ابتدائی دورمیں زمین خرید تنازعہ سے صحیح سق نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے بعد میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کا معاملہ مزید سنگین ہوگیا۔
ایس آئی ٹی کررہی ہے معاملے کی جانچ
الزام ہے کہ چڑھاوا کیس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اطلاع ملنے کے باوجود بروقت سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ تقریباً 80 لاکھ روپئے کی وصولی کی اطلاعات کے باوجود فوری طور پر ایف آئی آردرج نہیں کی گئی۔ اس وقت، ٹرسٹ نے اندرونی آڈٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، کسی بڑی بے ضابطگی کی تردید کی۔ اسی درمیان بڑھتے تنازعہ اورسیاسی الزام تراشی کے بعد مرکز اور اترپردیش حکومت کی سطح پرمداخلت ہوئی، جس کے بعد پورے معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی۔ اب ایس آئی ٹی چڑھاوا معاملے کے ساتھ ساتھ زمین خریدوفروخت کے سبھی متنازعہ سودوں کی بھی گہرائی سے جانچ کررہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




