کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آج الیکشن کمیشن آف انڈیا پر سخت حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے پاس کرناٹک کے ایک حلقے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے دھوکہ دہی کی اجازت دینے کے “100 فیصد ٹھوس ثبوت” موجود ہیں۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس نے صرف ایک حلقے کا جائزہ لیا اور اس میں ہزاروں مشتبہ ووٹرز پائے گئے جن کی عمریں 50، 60 یا 65 سال ہیں، لیکن وہ نئے ووٹرز کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک حلقے تک محدود نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر ہر حلقے میں یہ “ڈرامہ” جاری ہے۔
𝐌𝐞𝐬𝐬𝐚𝐠𝐞 𝐅𝐫𝐨𝐦 𝐑𝐚𝐡𝐮𝐥 𝐆𝐚𝐧𝐝𝐡𝐢 𝐉𝐢 pic.twitter.com/KjrG3UQ3PI
— Congress (@INCIndia) July 24, 2025
غلط فہمی میں نہ رہے الیکشن کمیشن
انہوں نے الیکشن کمیشن کو خبردار کیا کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس سے بچ نکلے گا تو یہ اس کی “غلط فہمی” ہے۔ بہار میں جاری خصوصی نظرثانی مہم (SIR) کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک “بہت سنگین معاملہ” ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بھارت کے الیکشن کمیشن کی طرح کام نہیں کر رہا۔ انہوں نے کمیشن کے حالیہ بیان کو “مکمل بکواس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا فرض ادا نہیں کر رہا۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ کانگریس نے جب یہ ثبوت سامنے لانے کا فیصلہ کرے گی تو وہ مکمل تیاری کے ساتھ عوام اور الیکشن کمیشن کے سامنے اسے پیش کرے گی۔
जिसको जिस भाषा में समझना है, समझ ले 🔥 pic.twitter.com/LmcHWg3ppm
— Congress (@INCIndia) July 24, 2025
بچ کر نکلنے کی کوشش نہ کرو،الیکشن کمیشن کو انتباہ
راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہاکہ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ اس سے بچ جائیں گے، اگر آپ کے افسران سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس سے بچ جائیں گے، تو آپ غلط فہمی میں ہیں۔ ہم آپ کے پیچھے پڑیں گے۔انہوں نے اس حلقے کا نام تو ظاہر نہیں کیا جہاں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، لیکن اشارہ دیا کہ کانگریس اب اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ الزامات صرف 90 فیصد نہیں، بلکہ “100 فیصد” پختہ اور درست ہیں، اور پارٹی اسے عوام کے سامنے واضح طور پر رکھے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

