لداخ کے لیہ میں 24 ستمبر کو پرتشدد احتجاج کے دوران چار افراد پولیس فائرنگ میں مارے گئے، جس کے بعد اب تک کل 44 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں ماحولیاتی کارکن اور چھٹے شیڈول کی مانگ کرنے والے سونم وانگچک بھی شامل ہیں۔ وانگچک بھوک ہڑتال پر تھے لیکن تشدد بھڑکنے کے فوراً بعد انہوں نے اپنی ہڑتال ختم کر دی۔
راہل گاندھی کا بیان
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک پوسٹ میں لکھا: ’’لداخ کے حیرت انگیز لوگ، ان کی ثقافت اور روایات بی جے پی اور آر ایس ایس کے حملے کی زد میں ہیں۔ لداخی عوام نے اپنی آواز مانگی، بی جے پی نے جواب میں چار نوجوانوں کو قتل کیا اور سونم وانگچک کو جیل میں ڈال دیا۔ قتل بند کرو، تشدد بند کرو، ڈرانا دھمکانا بند کرو۔ لداخ کو آواز دو، انہیں چھٹا شیڈول دو۔”
Ladakh’s amazing people, culture, and traditions are under attack by the BJP and RSS.
Ladakhis asked for a voice. The BJP responded by killing 4 young men and jailing Sonam Wangchuk.
Stop the killing.
Stop the violence.
Stop the intimidation.Give Ladakh a voice. Give them…
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 28, 2025
وانگچک پر این ایس اے کے تحت کارروائی
حکام کے مطابق 26 ستمبر کو سونم وانگچک کو نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا اور جودھپور کی جیل بھیج دیا گیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ انہوں نے تشدد کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔ لداخ کے ڈی جی پی ایس ڈی سنگھ جموال نے پریس کانفرنس میں بتایا: ’’اب تک 44 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں مرکزی کردار ادا کرنے والے بھی شامل ہیں۔ سونم وانگچک کو این ایس اے کے تحت جیل بھیجا گیا ہے۔‘‘
پاکستان سے تعلقات کا الزام
پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سونم وانگچک کے پاکستان سے روابط پر سوالیہ نشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وانگچک نے ماضی میں پاکستان کے ایک پروگرام میں شرکت کی تھی اور وہ بنگلہ دیش بھی گئے تھے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ ’’ہم نے حال ہی میں ایک پاکستانی شہری کو پکڑا تھا جو رپورٹنگ کر رہا تھا۔ وانگچک کی سرگرمیوں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔‘‘
احتجاج کا پس منظر
24 ستمبر کو لیہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران حالات بگڑ گئے تھے، مشتعل ہجوم نے بی جے پی کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ اسی دوران پولیس نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں اور مرکزی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات شروع کیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


