راہل گاندھی کو ملی بڑی راحت
لکھنؤ: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو منگل کے روز لکھنؤ میں ایم پی-ایم ایل اے کورٹ سے بڑی راحت ملی۔ عدالت نے منگل کے روز راہل گاندھی کو ہتک عزت کے ایک کیس میں ضمانت دے دی۔
دو ضمانتیں داخل کرنے کے بعد ملی ضمانت
یہ معاملہ سال 2022 میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہندوستانی فوج کے بارے میں دیے گئے مبینہ قابل اعتراض بیان سے متعلق ہے۔ منگل کے روز عدالت میں خودسپردگی کے بعد راہل گاندھی کے وکیل کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے قبول کرلیا۔ عدالت نے بیس بیس ہزار روپے کے دو ضمانتیں داخل کرنے کے حکم کے ساتھ راہل گاندھی کو ضمانت دے دی۔
راہل گاندھی پر قابل اعتراض بیان دینے کا الزام
راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2022 میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران بھارتی فوج کے بارے میں ایسا بیان دیا تھا، جسے ہتک آمیز اور قابل اعتراض قرار دیا گیا تھا۔ اس بیان کے خلاف شکایت درج کرائی گئی جس کے بعد عدالت نے راہل گاندھی کو بطور ملزم طلب کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ راہل گاندھی کا بیان فوج کی ساکھ کو ٹھیس پہنچانے والا ہے اور اس سے ملک کے فوجیوں کے حوصلے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
راہل گاندھی نے رسمی طور پر خودسپردگی کی
عدالت کی طرف سے طلب کیے جانے کے بعد راہل گاندھی ذاتی طور پر منگل کے روز لکھنؤ کی عدالت میں پیش ہوئے اور رسمی طور پر خودسپردگی کی۔ اس کے بعد ان کے وکیل نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ ضمانت کی شرائط کے مطابق، عدالت نے راہل گاندھی کو 20 ہزار روپے کی دو ضمانتیں جمع کرانے کا حکم دیا، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
ہتک عزت کی شکایت بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے سابق ڈائریکٹر ادے شنکر سریواستو نے دائر کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی مانا کہ کانگریس ایم پی کا تبصرہ فوج کے حوصلے کو توڑنے والا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




