Bharat Express DD Free Dish

راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آردرج کرانے کی عرضی مسترد ہونے سے کیا ہوگا یوپی کی سیاست پراثر؟

راہل گاندھی کوالہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے ان کے مبینہ ملک مخالف بیان کے الزام میں ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی خارج کردی ہے۔ یہ تنازعہ 15 جنوری 2025 کوراہل گاندھی کے ذریعہ دیئے گئے ایک بیان سے شروع ہوا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کوالہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آرکا حکم دینے والی عرضی ہائی کورٹ کی سنگل بینچ نے خارج کردی ہے۔ یہ عرضی 15 جنوری 2025 کوراہل گاندھی کے مبینہ بیان ’انڈین اسٹیٹ کے خلاف لڑائی‘ پرایف آئی آردرج کرنے کا حکم دیئے جانے کے مطالبہ سے متعلق داخل کی گئی تھی، جس پر ہائی کورٹ نے 8 اپریل کوسماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ گزشتہ روز عدالت نے یہ عرضی مسترد کردی۔ راہل گاندھی کے خلاف یہ عرضی مسترد ہونے کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے بیانوں میں کوئی نرمی  آئے گی یا پھر وہ مزید جارحانہ رویہ اپنائیں گے۔

یوپی کی سیاست پرکیا ہوگا اثر؟

راہل گاندھی اب کھل کربی جے پی اورآرایس ایس پرحملہ کرتے ہیں۔ ان کا رویہ مزید جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کے خلاف ضمانت عرضی مسترد ہونے سے یوپی کی سیاست پربڑا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اگرعدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہوتا تو پھرکانگریس کے لئے پریشانی کی بات ہوتی۔ حالانکہ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ یوپی کانگریس اس مسئلے کوکس طرح سے اٹھاتی ہے؟ آپ کو بتا دیں کہ یہ تنازعہ 15 جنوری 2025 کوراہل گاندھی کے ذریعہ دیئے گئے ایک بیان سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بیان دہلی میں کانگریس کے نئے ہیڈ کوارٹر”اندرا بھون“ کے افتتاح کے دوران دیا گیا تھا۔ پارٹی کارکنان کومخاطب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ بی جے پی اورآرایس ایس نے ملک کی ہرایک تنظیم پرقبضہ کرلیا ہے، جس میں عدلیہ اورمیڈیا بھی شامل ہیں۔

ہندوشکتی دل نے درج کرائی تھی شکایت

راہل گاندھی نے کہا تھا، اگرآپ کولگتا ہے کہ ہم بی جے پی اورآرایس ایس نام کی کسی تنظیم سے لڑرہے ہیں توآپ سمجھے ہی نہیں۔ ہم صرف بی جے پی اورآرایس ایس سے ہی نہیں بلکہ انڈین اسٹیٹ سے لڑرہے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد ہندوشکتی دل کے ایک عہدیدارنے شکایت درج کرائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کا تبصرہ ملک مخالف تھا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کے اس بیان میں ہندوستانی ریاست کوایک مخالف کے طورپردکھایا گیا۔ اس کا مقصد ملک کومستحکم کرنا تھا۔

نچلی عدالت نے کیا کہا تھا؟

انہوں نے یہ بھی ترک دیا کہ اس  تبصرہ سے شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں قومی ایکتا کوٹھیس پہنچی ہے۔ اس کے بعد سنبھل کی چندوسی کورٹ نے ایف آئی آردرج کرنے کی ان کی عرضی خارج کردی تھی۔ نچلی عدالت نے اس معاملے کوکمزرقراردیتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرہ مجرمانہ مقدمہ چلانے کے لئے ضروری شرائط کوپورا نہیں کرتیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایف آئی آردرج کرانے کے لئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read