پونے: مہاراشٹر کے شہر پونے میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم 12 افراد کی موت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ یہ معاملہ ہڈپسر علاقے کے پاندھرے مالا علاقہ کا بتایا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے، جبکہ انتظامیہ اور پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس معاملے میں سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
شراب پینے کے فوراً بعد بگڑنے لگی طبیعت
مقامی لوگوں کے مطابق شراب پینے کے کچھ ہی دیر بعد کئی افراد کی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی۔ متاثرین کو الٹی اور شدید پیٹ درد کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعے میں 28 مئی کو دو افراد کی موت ہوئی تھی، جبکہ 29 مئی کو مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی۔
ایک ہی خاندان کے تین افراد کی ہوئی موت
مقامی خاتون سنندا سابلے نے بتایا کہ مرنے والوں میں کئی افراد ایک ہی بستی کے رہنے والے تھے۔ ان میں سے تین افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’ایک کا نام ارون، دوسرے کا راہل اور تیسرے کا نام یشونت تھا۔ شراب پینے کے تقریباً دس منٹ بعد ہی انہیں الٹی اور پیٹ درد شروع ہو گیا تھا۔‘‘ سنندا سابلے نے مزید کہا، ’’کل دو لوگوں کی موت ہوئی تھی، بعد میں ایک اور لاش ملی۔ ایک ہی گھر کے تین افراد کی جان چلی گئی ہے، جبکہ کچھ لوگ اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ہاتھ بھٹی کی شراب بند ہونی چاہیے۔‘‘
خواتین نے غیر قانونی شراب کے خلاف اٹھائی آواز
علاقے کی ایک اور خاتون نے بھی غیر قانونی شراب کے خلاف شدید ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ’’شراب پر پابندی لگنی چاہیے۔ اس کی وجہ سے گھروں میں روز جھگڑے ہوتے ہیں۔ لوگ رات بھر شراب پی کر خواتین کو پریشان کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، لیکن اس کے باوجود لوگ مسلسل شراب نوشی کرتے رہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شراب پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
فڑنویس نے سخت کارروائی کے دیے احکامات
محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پونے میں مبینہ زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کے معاملے میں سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پونے اور پمپری چنچوڑ کے پولیس کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کریں اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔ دونوں شہروں کی پولیس کو باہمی تال میل کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کرنے کے بھی احکامات دیے گئے ہیں۔
آٹھ افراد گرفتار، چھاپے جاری
اطلاعات کے مطابق اس معاملے سے جڑے مختلف ٹھکانوں پر مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ محکمہ آبکاری کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ حکام اموات کی اصل وجوہات معلوم کرنے میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پولیس انتظامیہ کو واضح ہدایت دی ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی ملزم کو بخشا نہ جائے اور سخت ترین کارروائی کی جائے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

