Bharat Express DD Free Dish

پروفیسرانل رائے نے سنبھالا روہیل کھنڈ یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلرکا عہدہ، کہا- تعلیم اورتحقیق کوملے گی نئی سمت

اترپردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر آنندی بین پٹیل نے پروفیسر انل رائے کو تین سال کے لئے روہیل کھنڈ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے موقع پریونیورسٹی کے رجسٹرار، فنانس کنٹرولر، سینئر افسران، اساتذہ اور ملازمین نے ان کا استقبال کیا اور نئی ذمہ داری کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔

مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی، بریلی کونیا وائس چانسلرمل گیا ہے۔ پروفیسر(ڈاکٹر) انل کماررائے نے پیرکویونیورسٹی پہنچ کروائس چانسلرکے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ عہدہ سنبھالنے کے موقع پریونیورسٹی کے رجسٹرار، فنانس کنٹرولر، سینئرافسران، اساتذہ اورملازمین نے ان کا استقبال کیا اورنئی ذمہ داری کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔ پروفیسرانل رائے کی تقرری اترپردیش کی گورنراوریونیورسٹی کی چانسلرآنندی بین پٹیل نے 17 اگست 2026 کوکی تھی۔ انہیں تین سال کے لیے روہیل کھنڈ یونیورسٹی کا وائس چانسلرمقررکیا گیا ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد پروفیسر انل رائے نے واضح کیا کہ ان کی بنیادی توجہ یونیورسٹی میں تعلیمی ماحول کومزید بہتربنانے پرہوگی۔

طلبہ کی تعلیم اورروزگارپرخصوصی توجہ

وائس چانسلرپروفیسرانل رائے نے کہا کہ کسی بھی یونیورسٹی کی ترقی صرف ایک شخص کی کوشش سے ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے اساتذہ، ملازمین اورطلبہ کومل کرکام کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے تعلیمی معیارکومضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تحقیق اورتکنیکی جدت کوبھی فروغ دیا جائے گا۔ ان کی ترجیحات میں طلبہ کوایسی تعلیم فراہم کرنا شامل ہے جو صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ مستقبل میں ان کے روزگاراورکیریئرمیں بھی کارآمد ثابت ہو۔ پروفیسررائے نے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال، تحقیقی سرگرمیوں کو وسعت دینے اورطلبہ کے مفادات سے متعلق اقدامات پرخصوصی توجہ دینے کی بات کہی۔ انہوں نے یونیورسٹی کونئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے اجتماعی کوششوں کو ضروری قراردیا۔

سیکر یونیورسٹی میں بھی چھوڑی اپنی شناخت

بریلی آنے سے قبل پروفیسرانل رائے پنڈت دین دیال اپادھیائے شیخاوٹی یونیورسٹی، سیکرکے وائس چانسلررہے۔ وہاں انہوں نے تقریباً تین سال تک خدمات انجام دیں۔ 27 ستمبر2023 سے 23 اگست 2026 تک کے ان کے دورمیں تحقیق، ٹیکنالوجی، جدت اورطلبہ کی سہولت سے متعلق کئی اہم اقدامات کئے گئے۔ ان کے دورمیں بھارتی علمی روایت مرکزاورپنڈت دین دیال اپادھیائے ریسرچ سینٹرقائم کئے گئے۔ اس کے علاوہ ہائی ٹیک سائنس ومیڈیا لیب، ریڈیوشیخاوٹی 91.2 ایف ایم، خودکارسوالیہ پرچہ نظام اورآن لائن عارضی ڈگری ومائیگریشن سرٹیفکیٹ کی سہولت شروع کی گئی۔ یونیورسٹی کیمپس کووائی فائی سہولت سے لیس کرنے کے ساتھ گرین کیمپس کی سمت میں بھی کام کیا گیا۔ طلبہ کے لیے ہاسٹل، ہیلتھ سینٹر، گیسٹ ہاؤس، کینٹین اور’گیان ادیان‘ جیسی سہولتیں بھی تیارکی گئیں۔ نئی تعلیمی پالیسی کومدنظررکھتے ہوئے روزگارسے متعلق اورجدید نصاب شروع کئے گئے، جبکہ تحقیقی سرگرمیوں کوبھی وسعت دینے کی کوشش کی گئی۔

اعلیٰ تعلیم اورمیڈیا کا طویل تجربہ

پروفیسرانل رائے کا تجربہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ تک محدود نہیں ہے۔ وہ مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی، وردھا میں شعبۂ ابلاغ عامہ کے سینئرپروفیسررہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مہاتما گاندھی مرکزی یونیورسٹی، موتیہاری میں قائم مقام وائس چانسلراورپرووائس چانسلرجیسے اہم عہدوں کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔ انہوں نے ویربہادرسنگھ پروانچل یونیورسٹی، جونپورمیں شعبۂ ابلاغ عامہ کے بانی سربراہ کے طورپربھی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ کشابھاؤ ٹھاکرے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن یونیورسٹی، رائے پورمیں الیکٹرانک میڈیا اسٹڈیزڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی رہے۔

متعدد اعزازات سے کئے جاچکے ہیں سرفراز

تعلیم اورصحافت کے شعبے میں ان کی خدمات کے لئے انہیں کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان میں وائس چانسلرآف دی ایئرایوارڈ، بھارت جیوتی ایوارڈ، سنچارشری ایوارڈ، بہترین استاد کا اعزازاورودربھ بھوشن ایوارڈ شامل ہیں۔ پروفیسررائے تحریراورتحقیق کے میدان میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ وہ 21 کتابوں کے مصنف، مدیراورمرتب ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دومختلف شعبوں میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read