وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پانچ روزہ کامیاب غیر ملکی دورے کے بعد وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ اس دورے کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات، اٹلی، نیدرلینڈز، سویڈن اور ناروے کا دورہ کیا، جہاں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اہم دوطرفہ اور اسٹریٹجک امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی اور انہیں گجرات کے مشہور ”کیسر آم“ بطور خاص تحفہ پیش کیے۔ وزیر اعظم کے اس اقدام کو نہ صرف سفارتی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے گجرات کے آم پیدا کرنے والے کسانوں اور باغبانوں میں بھی خوشی اور امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ گجرات کے ضلع ولساڈ سمیت ریاست کے مختلف علاقوں میں آم کے کاشتکار وزیر اعظم مودی کے اس تحفے کو اپنی محنت اور زرعی ورثے کی عالمی سطح پر پہچان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ولساڈ پہلے ہی ہاپس آم کی برآمدات کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، لیکن اب کسانوں کو امید ہے کہ کیسر آم کو بھی بین الاقوامی منڈیوں میں نئی شناخت حاصل ہوگی اور اس کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
کیسر آم گجرات کی زرعی ثقافت اور روایتی باغبانی کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ آم اپنی بے مثال مٹھاس، دلکش خوشبو، سنہری رنگت اور لمبی شیلف لائف کی وجہ سے ملک و بیرون ملک کافی مقبول ہے۔ ماہرین کے مطابق اس آم کی خاص خصوصیات ہی اسے دیگر اقسام سے ممتاز بناتی ہیں۔ کسان راجیش پٹیل نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے یو اے ای کے صدر کو کیسر آم پیش کرنا دراصل گجرات کے کسانوں کی محنت اور زمین کی خوشبو کو دنیا تک پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ صرف ایک پھل نہیں بلکہ ہماری محنت، ہماری مٹی اور ہماری ثقافت کی نمائندگی ہے۔ اب ہمیں امید ہے کہ خلیجی ممالک خصوصاً دبئی اور ابوظہبی میں کیسر آم کی مانگ مزید بڑھے گی“۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی میڈیا میں اس خبر کو نمایاں کوریج مل رہی ہے، جس سے گجرات کی زرعی مصنوعات کو عالمی سطح پر برانڈنگ حاصل ہوگی۔ کسانوں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اسی طرح مقامی زرعی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کراتی رہی تو اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔ ایک اور کسان دھرمیندر سنگھ چوہان نے بتایا کہ بھارت میں آم کی ایک ہزار سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں، لیکن کیسر آم اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے جی آئی ٹیگ حاصل کرنے والی اہم اقسام میں شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ آم ذائقے کے ساتھ ساتھ غذائیت کے اعتبار سے بھی نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی مسلسل اپنے غیر ملکی دوروں میں ہندوستانی روایتی مصنوعات، جی آئی ٹیگ والی اشیا اور مقامی زرعی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، جو ”ووکل فار لوکل“ اور ”آتم نربھر بھارت“ مہم کا اہم حصہ ہے۔ کسانوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بھارتی زرعی مصنوعات کی عالمی سطح پر ساکھ مضبوط ہوتی ہے اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت دنیا میں آم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، لیکن برآمدات کے میدان میں ابھی کافی امکانات موجود ہیں۔ ایسے میں کیسر آم کی بہتر مارکیٹنگ اور عالمی سطح پر تشہیر سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی بڑھے گی بلکہ بھارت کی زرعی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ کسانوں نے وزیر اعظم کے اس اقدام کو ہندوستانی مہمان نوازی، ثقافتی ورثے اور زرعی خوشحالی کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی یہ ”گفٹ ڈپلومیسی“ صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ملک بھر کے لاکھوں آم پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے حوصلہ افزا پیغام بھی ہے۔ اب کسانوں کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں گجرات کا کیسر آم خلیجی ممالک سمیت دنیا کی مختلف منڈیوں میں اپنی مٹھاس بکھیرتا نظر آئے گا۔
بھارت ایکپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


