نئی دہلی: بھارت کے 77ویں یومِ جمہوریہ سے قبل کی شام پر اتوار کو صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے ملک سے خطاب کیا اور ملک کے عوام کو یومِ جمہوریہ کی مبارکباد پیش کی۔ اپنے طویل خطاب میں انہوں نے گزشتہ برس کی کامیابیوں، جمہوری اقدار، آئینی نظریات، خواتین اور نوجوانوں کے کردار، اقتصادی ترقی اور عالمی سطح پر بھارت کی مضبوط ہوتی حیثیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ صدر مرمو نے کہا کہ آج بھارت ترقی، خود انحصاری اور شمولیت کے راستے پر مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ صدرِ جمہوریہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں آزادی کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 15 اگست 1947 نے بھارت کی تقدیر بدل دی، جب ملک نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 26 جنوری 1950 کو آئین کے نفاذ کے ساتھ بھارت نے ایک جمہوری جمہوریہ کے طور پر خود کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ صدر مرمو کے مطابق بھارت کا آئین دنیا کے سب سے بڑے جمہوری نظام کی بنیاد ہے، جس میں انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت جیسے اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
صدر نے کہا کہ آئین سازوں نے ملک کی وحدت اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی ڈھانچہ تیار کیا، جس نے آج تک بھارت کو متحد رکھا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت صرف حقوق کا مجموعہ نہیں بلکہ فرائض اور مشترکہ ذمہ داریوں کا بھی تقاضا کرتی ہے اور ہر شہری کو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اپنے خطاب میں صدر دروپدی مرمو نے وندے ماترم کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گیت آزادی کی جدوجہد کے دوران قومی اتحاد کی علامت بن کر ابھرا۔ انہوں نے بتایا کہ قوم پرست شاعر سبرامنیم بھارتی نے اپنی تمل تخلیق کے ذریعے وندے ماترم ینبوم کو عوام میں مقبول بنایا، جس کا بعد میں مختلف بھارتی زبانوں اور انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ صدر نے بنکم چندر چٹوپادھیائے کی تخلیق کو بھارت کی گیتا نما قومی پرارتھنا قرار دیا۔
صدر مرمو نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نعرہ ’جے ہند‘ آج بھی قومی وقار اور حب الوطنی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتا جی کی یومِ پیدائش کو پرکرم دیوس کے طور پر منانا نوجوانوں میں حب الوطنی کے جذبے کو مضبوط کرتا ہے۔ صدر نے ملک کی بیٹیوں کی کامیابیوں پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین آج ہر شعبے میں نئی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے میدان میں بھارتی بیٹیوں نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ خواتین کرکٹ ٹیم، بلائنڈ کرکٹ ٹیم اور شطرنج میں حاصل کی گئی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی خواتین کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
صدر مرمو نے بتایا کہ ملک میں 57 کروڑ جن دھن کھاتوں میں سے 56 فیصد خواتین کے نام پر ہیں، جبکہ 10 کروڑ سے زائد خواتین خود امدادی گروپوں سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناری شکتی وندن ادھینیم خواتین کو مزید بااختیار بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ پنچایتی راج اداروں میں تقریباً 46 فیصد خواتین کی نمائندگی عورتوں کی قیادت میں ترقی کو مضبوط بنائے گی۔ صدر نے نوجوانوں کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان بھارت کو نئی سمت دے رہا ہے۔ اختراع، اسٹارٹ اپس اور تحقیق کے میدان میں نوجوانوں کی شمولیت نے بھارت کو عالمی سطح پر ممتاز بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی توانائی ہی ’وکست بھارت‘ کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔
صدر مرمو نے کسانوں، مزدوروں، ڈاکٹروں، نرسوں، اساتذہ، انجینئروں اور سیکورٹی فورسز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تمام طبقات ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی محنت کے سبب بھارتی زرعی مصنوعات دنیا بھر میں برآمد کی جا رہی ہیں، جو دیہی معیشت کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت جلد ہی دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے ہدف کے قریب پہنچ جائے گا۔ خطاب کے اختتام پر صدر دروپدی مرمو نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، شمولیت اور استقامت کے ساتھ ایک خود انحصار، ترقی یافتہ اور مضبوط بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ جمہوریہ ہمیں اپنے ماضی پر فخر، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کے خوابوں کی تکمیل کا عزم سکھاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
