نئی دہلی میں منگل کی شام لال قلعہ کے بالکل قریب ایک کار میں اچانک دھماکہ ہوا جس کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کار میں آگ لگ گئی اور اس کے شعلوں نے قریب کھڑی تین دیگر گاڑیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ دھماکہ لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے پاس ہوا جو ایک مصروف علاقہ ہے جہاں ہمیشہ لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز بہت تیز تھی، جس کے بعد لوگ گھبرا کر دوڑنے لگے۔ پولیس نے لال قلعہ کے آس پاس کے حصے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور لوگوں کو وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
#WATCH | A call was received regarding an explosion in a car near Gate No. 1 of the Red Fort Metro Station, after which three to four vehicles also caught fire and sustained damage. A total of 7 fire tenders have reached the spot. A team from the Delhi Police Special Cell has… pic.twitter.com/F7jbepnb4F
— ANI (@ANI) November 10, 2025
دہلی کے تاریخی مقام لال قلعہ کے قریب لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 پر پیر کی شام ایک ایکو وین میں زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ دھماکے میں 10 افراد کے ہلاک ہونے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔
دھماکے کی شدت اور نقصان
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی طاقتور تھا جس کے نتیجے میں پانچ سے چھ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ آگ کی لپیٹ میں آکر مزید سات سے آٹھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی اور اس کے اثر سے آس پاس کی اسٹریٹ لائٹس اور گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
فوری ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی کارروائی
فائر بریگیڈ کو دھماکے کی اطلاع شام 6 بجکر 55 منٹ پر دی گئی جس کے بعد سات سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رہیں۔ اسی دوران دہلی پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر راستے بند کر دیے۔
سکیورٹی ایجنسیاں سرگرم
دھماکے کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) کی ٹیم کو جائے وقوعہ پر بھیجا جا رہا ہے تاکہ دھماکے کی نوعیت اور مخصوص مواد کی شناخت کی جا سکے۔ فورینسک اور ٹیکنیکل ماہرین بھی مقام پر پہنچ رہے ہیں جو یہ معلوم کریں گے کہ دھماکہ سی این جی سلنڈر، دھماکہ خیز مواد یا کسی اور ذریعے سے ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض اتفاقی حادثہ نہیں ہوسکتا اور ممکنہ سازش کے زاویے سے بھی تفتیش جاری ہے۔
علاقے میں ہائی الرٹ اور بازار بند
دھماکے کے فوراً بعد پوری دہلی میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ نزدیکی چاندنی چوک مارکیٹ کو بند کر دیا گیا اور لال قلعہ کے اطراف کی سڑکیں بھی بند کر دی گئیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب آج ہی دہلی کے قریب فریدآباد سے 2900 کلو امونیم نائٹریٹ برآمد کیا گیا تھا۔ یہ کیمیکل دھماکہ خیز مواد بنانے میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ دونوں واقعات کو جوڑنا ابھی قبل از وقت ہے مگر سکیورٹی ایجنسیاں اس پہلو کو بھی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔
دھماکہ کی کیا وجوہات ہیں؟
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ دھماکہ کیسے ہوا؟ پولیس اور بم اسکواڈ ٹیمیں تحقیقات کر رہی ہیں۔ وہ گاڑی کے باقی ملبے اور جل چکے حصوں کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ دھماکے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ کیونکہ لال قلعہ دہلی کا انتہائی حساس تاریخی مقام ہے اس لیے واقعے کے بعد وہاں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ تفتیش مکمل ہونے تک دھماکے کی اصل وجہ کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

