دہلی سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کا وفد بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے والا ہے۔ اس سال کے شروع میں قومی دارالحکومت میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد پہلی بار وزیر اعظم دہلی کے تمام بی جے پی اراکین اسمبلی سے ملاقات کریں گے۔
یہ میٹنگ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے 11 سال اور قومی مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد ہو رہی ہے۔ دہلی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور بی جے پی کے ایم ایل اے موہن سنگھ بشٹ نے اس میٹنگ کے حوالے سے جوش و خروش کا اظہار کیا اور مودی حکومت کے تحت گزشتہ 11 سالوں کو ہندوستان کے لیے تبدیلی کا ’سنہرا دور‘‘ قرار دیا۔
’مودی پیٹرن‘ کی وجہ سے ملی بی جے پی کو دہلی میں جیت: موہن سنگھ بشٹ
ایم ایل اے بشٹ نے کہا کہ ’’مرکز میں بی جے پی حکومت نے 11 سال مکمل کر لیے ہیں، اس لیے ہم انھیں مبارکباد پیش کریں گے۔ جس طرح سے کام ہوا ہے، یہ سنہرا دور ہے؛ ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔‘‘ وہیں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چندولیا، جو شمال مغربی دہلی کی نمائندگی کرتے ہیں، نے اس میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے دہلی میں بی جے پی کی جیت کا سہرا ووٹنگ کے ’مودی پیٹرن‘ کو دیا۔
انھوں نے کہا ’’آج ہمیں پتہ چل جائے گا کہ وہ دہلی کے لیے کیا وژن دیں گے۔ جب الیکشن جیتنے کے بعد بی جے پی کے تمام ممبران پی ایم مودی سے ملنے گئے، اس وقت دہلی میں ہماری حکومت نہیں تھی۔‘‘ واضح رہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے دہلی کی تمام سات پارلیمانی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور پھر 2025 میں پارتی نے 27 سال بعد قومی دارالحکومت میں اقتدار میں واپسی کی۔ بی جے پی نے تاریخی مینڈیٹ میں دہلی قانون ساز اسمبلی کی 70 نشستوں میں سے 48 نشستیں جیت کر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو اقتدار سے بے دخل کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
