پی ایم نریندر مودی نے جمعرات کے روز نیپال کی پی ایم سشیلا کارکی سے فون پر بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے حالیہ پُرتشدد مظاہروں میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور نیپال میں امن و استحکام بحال کرنے کی ان کی کوششوں میں بھارت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
پی ایم مودی کی “ایکس” پر پوسٹ
پی ایم مودی نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ کے ذریعے سشیلا کارکی کے ساتھ اپنی گفتگو کی اطلاع دی۔ انہوں نے لکھا: نیپال کی پی ایم سشیلا کارکی سے بات کی۔ حالیہ افسوسناک واقعے میں جان گنوانے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت۔ نیپال میں امن و استحکام کی بحالی کی ان کی کوششوں میں بھارت کی مستقل حمایت کا یقین دلایا۔
پی ایم مودی نے دی مبارکباد
پی ایم مودی نے نیپال کے قومی دن کے موقع پر سشیلا کارکی اور نیپالی عوام کو دلی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ:”میں نے انہیں اور نیپال کے عوام کو ان کے قومی دن پر نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔
پہلے بھی دے چکے ہیں مبارکباد
اس سے قبل بھی پی ایم مودی نے سشیلا کارکی کو عبوری اپی ایم بننے پر مبارکباد دی تھی۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا: نیپال کی عبوری اپی ایم کے طور پر ذمہ داری سنبھالنے پر سشیلا کارکی کو دلی مبارکباد۔ نیپالی بھائیوں اور بہنوں کی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھارت پوری طرح پُرعزم ہے۔
سشیلا کارکی کون ہیں؟
یہ جان لینا اہم ہے کہ سشیلا کارکی نیپال کی پہلی خاتون اپی ایم بنی ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کو ان کے نام کا اعلان ہوا اور اسی شام صدر رام چندر پاؤڈیل نے انہیں حلف دلایا۔ حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی نیپالی پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے عام انتخابات کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
نیپال میں حکومت کی تبدیلی کیسے ہوئی؟
نیپال میں یہ سیاسی تبدیلی “جنریشن زی” تحریک کے بعد عمل میں آئی، جس نے کے پی شرما اولی کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا، جو جلد ہی پُرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔ کے پی اولی حکومت کے کئی وزراء کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ آخرکار مظاہرین کے دباؤ میں کے پی شرما اولی کو اپی ایم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


