Bharat Express DD Free Dish

PM Modi takes subtle jab at Trump: پی ایم مودی نے ٹرمپ کے ’’مردہ معیشت‘‘ والے بیان کا بالواسطہ طور پر دیا جواب، شہریوں سے کی ’’سودیشی‘‘ مصنوعات اپنانے کی اپیل

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’دنیا میں عدم استحکام ہے، ہر ملک اپنے مفاد پر توجہ دے رہا ہے، ایسے میں ہندوستان کو بھی اپنے معاشی مفادات کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔‘‘

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز وارانسی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں عدم استحکام کا ماحول ہے، ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے قریب ہے۔ ان کا یہ بیان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تنقید کے تناظر میں آیا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک ’’مردہ معیشت‘‘ ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں ٹرمپ کا نام نہیں لیا، تاہم انھوں نے واضح انداز میں عالمی سطح پر جاری غیر یقینی حالات کے باوجود ہندوستان کی ترقی کا ذکر کیا۔

پی ایم مودی نے ’’سودیشی‘‘ مصنوعات کو اپنے پر دیا زور

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’دنیا میں عدم استحکام ہے، ہر ملک اپنے مفاد پر توجہ دے رہا ہے، ایسے میں ہندوستان کو بھی اپنے معاشی مفادات کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔ ہم دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے والے ہیں۔‘‘ اس دوران وزیر اعظم مودی نے ’ووکل فور لوکل‘‘ اور ’’سودیشی‘‘ مصنوعات کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے تمام اقدامات کرنے ہوں گے جو ہندوستانی معیشت، کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور نوجوانوں کو مضبوط کریں۔ انھوں نے شہریوں اور کاروباری برادری سے اپیل کی کہ وہ صرف ہندوستانی اشیاء خریدیں تاکہ خود انحصاری کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’جو بھی ملک کی بھلائی چاہتے ہیں، چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں، انھیں ’سودیشی‘ مصنوعات کے عزم کو اپنانا ہوگا۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ نے حال ہی میں ہندوستانی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے اور روس کے ساتھ تجارت پر مزید پابندیوں کی وارننگ دی ہے۔ وہیں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر نشانہ سادھا ہے اور کہا ہے کہ پی ایم مودی اور ایف ایم نرملا سیتارمن کے علاوہ سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان ’ایک مردہ معیشت‘‘ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read