پی ایم نریندر مودی نے اتوار کو راج ماتا وجے راجے سندھیا کو ان کی 106 ویں یوم پیدائش پرخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں، پی ایم مودی نے جن سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو مضبوط بنانے میں سندھیا کے کلیدی کردار کو یاد کیا۔ پی ایم مودی نے مزید کہا کہ راج ماتا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو ان کے نام سے یاد رکھتی تھیں۔ کسی کارکن کے دل میں اس وقت کیا جذبات ہوتے ہوں گے، آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وقار نہیں،
عزت، سیاست کی کلید ہونی چاہئے۔ انہوں نے راج ماتا کو ایک روحانی شخصیت قرار دیا۔
Tributes to Rajmata Vijayaraje Scindia Ji on her birth anniversary. Her efforts to serve society will never be forgotten. She played a key role in strengthening the Jana Sangh and BJP. Vijayaraje Scindia Ji was passionate about our cultural roots and always worked to protect as… pic.twitter.com/PXP0UjUklz
— Narendra Modi (@narendramodi) October 12, 2025
راج ماتا وجے راجے سندھیا جی کو ان کے یوم پیدائش پر خراج عقیدت
سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے جن سنگھ اور بی جے پی کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وجے راجے سندھیا جی ہماری ثقافتی جڑوں کے بارے میں پرجوش تھیں اور ہمیشہ ان کی تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کو مقبول بنانے کے لیے کام کرتی رہیں،” پوسٹ میں لکھا گیا ہے۔ گوالیار کی راج ماتا کے نام سے جانی جانے والی سندھیا 12 اکتوبر 1919 کو پیدا ہوئیں، اور ان کا تعلق مدھیہ پردیش سے تھا۔
پارلیمنٹ کی رکن، وہ جن سنگھ کی بانی رکن تھیں
پچھلی صدی میں ہندوستان پر اثر انداز ہونے والی پہلی چند شخصیات میں راج ماتا ایک فیصلہ کن رہنما اور ایک ہنر مند منتظم تھیں۔ گوالیار کے آخری حکمراں کے طور پر مشہور سندھیا نے انتخابی سیاست میں اپنا سفر 1957میں شروع کیا اور بعد میں کانگریس کے ٹکٹ پر اپنی ریاست میں گنا لوک سبھا سیٹ جیتی۔ بعد میںسندھیا نے بھارتیہ جن سنگھ میں شمولیت اختیار کی اور مدھیہ پردیش میں ایک اسمبلی سیٹ جیت لی۔راج ماتا 1980 میں بی جے پی کی قیادت میں سامنے آئیں، جب وہ پارٹی کے نائب صدر کے طور پر منتخب ہوئیں۔سندھیا کا انتقال 2001 میں 81 سال کی عمر میں ہوا تھا
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


