وزیر اعظم نے اسٹارٹ اپس سے کہا کہ بھارت کو خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنا مضبوط بنانا ہے کہ جب دنیا خلاء کے بارے میں سوچے تو اس کی نظر بھارت کی جانب ہو۔ انہوں نے نوجوان کاروباری افراد اور جدت کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک مشکل اور نئے شعبے میں قدم رکھنے کا خطرہ مول لیا، حکومتی اصلاحات پر اعتماد کیا اور مسلسل محنت کی، جس کے نتائج اب ملک کے خلائی شعبے میں واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔
راکٹ سے لے کر ری یوز ایبل ٹیکنالوجی تک
ملاقات کے دوران مختلف اسپیس اسٹارٹ اپس نے اپنی سرگرمیوں اور کامیابیوں کے بارے میں وزیر اعظم کو پریزنٹیشن بھی دی۔ کچھ کمپنیاں راکٹ تیار کر رہی ہیں، جبکہ بعض ری یوز ایبل لانچ وہیکلز، سیٹلائٹس اور جدید پروپلشن سسٹمز پر کام کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسپیس ڈیبری یعنی خلاء میں موجود ملبے کو ہٹانے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی موسم کی ٹیکنالوجی تیار کرنے جیسے شعبوں میں بھی بھارتی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال صرف راکٹ لانچ کرنے یا خلائی مشنز تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زراعت، مویشی پروری، ڈیری، ماحولیات اور دیگر شعبوں میں اسپیس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات تلاش کرنے پر زور دیا۔
خلاء میں فیول اسٹیشن اور میڈیسن کی نئی سمت
بھارت کا خلائی شعبہ اب روایتی خلائی مشنز سے آگے بڑھ کر ایسے نئے امکانات پر توجہ دے رہا ہے جن کا تعلق مستقبل کی خلائی معیشت سے ہے۔ خلاء میں ایندھن کی فراہمی کے مراکز، سیٹلائٹ سروسز، جدید پروپلشن، خلائی ملبے کی صفائی اور خلاء میں ادویات و دیگر مصنوعات کی تیاری جیسے تصورات مستقبل میں عالمی خلائی صنعت کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے نجی شعبے کو ایسے نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کی ترغیب دی، تاکہ بھارت عالمی خلائی معیشت میں صرف صارف نہیں بلکہ ایک اہم تخلیق کار اور فراہم کنندہ کے طور پر ابھرے۔
بچوں کو بھی خلائی شعبے سے جوڑنے پر زور
پی ایم مودی نے اسپیس اسٹارٹ اپس سے کہا کہ وہ اسکولی بچوں کے ساتھ بھی رابطہ قائم کریں اور اٹل ٹنکرنگ لیبز کے ذریعے نوجوانوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں تجسس پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمری سے بچوں کو تجربات اور اختراع کے مواقع فراہم کیے جائیں تو مستقبل میں خلائی شعبے کے لیے ایک بڑی باصلاحیت افرادی قوت تیار کی جاسکتی ہے۔
عالمی سرمایہ کاری کے لیے بھارت کو مضبوط بنانے کی تیاری
وزیر اعظم نے کہا کہ کئی ممالک خلائی شعبے میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کر سکتے یا اس سمت میں سرمایہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں بھارت کے پاس اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا بڑا موقع ہے۔ حکومت کی خلائی اصلاحات سے نجی کمپنیوں کو اس شعبے میں داخل ہونے اور نئی ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے زیادہ مواقع ملے ہیں۔ وزیر اعظم نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت کا نجی خلائی ایکو سسٹم نہ صرف ملک کی معیشت اور ٹیکنالوجی کے لیے طاقت بن سکتا ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک کامیاب اور تجارتی طور پر قابلِ عمل خلائی ماڈل بھی پیش کرسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


